حساس ادارے کیخلاف تقریر ،جسٹس شوکت صدیقی برطرف

201

اسلام آباد (صباح نیوز،نمائندہ جسارت) سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے رواں سال 21 جولائی کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے اس بیان پر از خود کارروائی
کی تھی اس حوالے سے ان کے خلاف ریفرنس بنایا گیا تھا جس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے بھی جواب جمع کرایا گیا جب کہ چیف جسٹس پاکستان نے بھی ان کے بیان کا ریکارڈ طلب کیاتھا۔ ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کی ایک میٹنگ یکم اکتوبر کو ہوئی جس کے بعد اب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی متفقہ سفارش کی گئی۔جمعرات کو ہی سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جاری کی جانے والی سفارشات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کے پانچ ارکان نے متفقہ طور پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی رائے دی۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش صدر مملکت کو ارسال کی جس کی ایک نقل وزیراعظم ہاؤس اور ایک جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی بھجوائی گئی۔سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت عارف علوی نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی جب کہ وزارت قانون نے بھی جسٹس شوکت کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔وزارت دفاع کی طرف سے جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف تحریری طور پر کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا تھا اور سپریم جوڈیشل کونسل نے اس تقریر کا از خود نوٹس لیا تھا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی طرف سے لکھی گئی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی ججز کے بارے میں بنائے گئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں اس لیے اْن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے سب سیکشن 6 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جاتی ہے۔جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف اس تقریر سے متعلق ریفرنس کی صرف ایک ابتدائی سماعت ہوئی تھی اور یہ سماعت بھی ان کیمرہ تھی جس کے بعد اس ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہوتی اور صدر مملکت پر یہ لازم ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کر ے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی لیکن وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لیکر جائیں گے۔جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔اس سے پہلے سنہ 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔یاد رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور سپریم کورٹ کے دیگر تین ججز کے خلاف عرصہ دراز سے ریفرنس زیر التوا ہیں لیکن انھیں ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجود ہ چیف جسٹس انور کاسی کے خلاف ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سماعت مکمل کرکے فیصلہ بھی محفوظ کرچکی ہے لیکن ابھی تک وہ فیصلہ نہیں سنایا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی اگلے ماہ مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہو جائیں گے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی چیف جسٹس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر جج تھے تاہم سپریم جوڈیشل کونسل کی ان سفارشات کے بعد اگر کوئی باہر سے نہ لایا گیا تو جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس ہوں گے۔ معطل ہونے والے جج شوکت عزیز صدیقی کا اپنے رد عمل میں کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا میری معزولی کی سفارش کا فیصلہ غیرمتوقع نہیں۔انہوں نے کہا کہ تقریباً تین سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ آرائش کے نام پر بے بنیاد ریفرنس بنایا گیا، سرکاری رہائش گاہ کی آرائش کے متعلق ریفرنس سے کچھ نہ ملا تو خطاب کو جواز بنا لیا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مزید کہا کہ میرے مطالبے اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود یہ ریفرنس کھلی عدالت میں نہیں چلایا گیا، نہ ہی میری تقریر میں بیان کیے گئے حقائق کو جانچنے کے لیے کوئی کمیشن بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اپنا تفصیلی مؤقف بہت جلد عوام کے سامنے رکھوں گا اور ان حقائق سے بھی آگاہ کروں گا جو میں نے اپنے تحریری بیان میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھے تھے اور بتاؤں گا کہ تقریباً نصف صدی بعد ہائی کورٹ کے ایک جج کو اس طرح معزول کرنے کے حقیقی اسباب کیا ہیں۔یاد رہے کہ 21 جولائی کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الزام عاید کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ہمارے چیف جسٹس تک رسائی حاصل کرکے کہا تھا کہ ہم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک باہر نہیں آنے دینا۔اپنے خطاب کے دوران بغیر کسی کا نام لیے انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ’مجھے پتہ ہے سپریم کورٹ میں کس کے ذریعے کون پیغام لے کر جاتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا احتساب عدالت پر ایڈمنسٹریٹو کنٹرول کیوں ختم کیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خفیہ ایجنسی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ خوف و جبر کی فضا کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے جب کہ میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے، میڈیا کی آزادی بھی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے۔واضح رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بیان پر آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آیا تھا جس میں ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس کے بعد 22 جولائی کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے متنازع بیان کا نوٹس لے لیا تھا۔چیف جسٹس نے واضح کیا تھا کہ ’پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں‘ تاہم انہوں نے معاملے کا جائزہ لینے کا عندیہ بھی دیا تھاجس کے بعد یکم اگست 2018 کو سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں 2 ریفرنسز زیر التوا ہیں، جن میں ایک ریفرنس بدعنوانی سے متعلق ہے، جو کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک ملازم کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف دوسرا ریفرنس گزشتہ برس ہونے والے فیض آباد دھرنے میں پاک فوج کے کردار کے بارے میں ان کے ریمارکس سے متعلق ہے جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے سوالات اٹھائے تھے۔علاوہ ازیں جسٹس شوکت صدیقی منکرین ختم نبوت(قادیانیوں) کے خلاف سخت موقف رکھنے اور حق گوئی کے باعث عوام میں کافی مقبول ہیں۔ انہوں نے الیکشن ایکٹ 2017 ء میں ختم نبوت قانون کی شقوں میں تبدیلی کے حوالے سے کیس میں نادرا سے مرتد (قادیانی )ہونے والے10 ہزار 205 افراد کی عمر،نام ،ولدیت اور بیرون ملک سفر کے حوالے سے تفصیلات طلب کی تھیں۔کیس کے دوران جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیے تھے کہ قادیانی پاکستان میں شہری بن کر رہیں، اسلام میں نقب نہ لگائیں۔ دوران سماعت عدالتی معاون پروفیسر حسن مدنی نے کہا تھا کہ اسلام مذہب تبدیل کرنے والے کی سزا وہی ہے جو مرتد کی ہے۔ قادیانی کافروں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ مسلمان ہیں نہ عیسائی‘ قادیانیوں کی بہت بڑی تعداد نے مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حسن مدنی سے استفسار کیا تھا کہ کیا ایک شخص صرف پنجاب اسمبلی کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے اپنا مذہب تبدیل کر دے تو اس پر اسلام کیا کہتا ہے؟۔پروفیسر حسن مدنی نے جواب دیا تھاکہ مذہب تبدیل کرنے والے کی سزا وہی ہے جو مرتد کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ