مشرف پیر تک وطن پہنچیں، کوئی گرفتار نہیں کرے گا، چیف جسٹس

113

اسلام آباد (نمائندہ جسارت+خبر ایجنسیاں) عدالت عظمیٰ نے این آر او کیس میں آخری مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز مشرف پیر تک وطن پہنچیں، کوئی گرفتار نہیں کرے گا،سابق صدر کو غداری کیس میں بھی 342کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کردی ،سابق صدر آصف زرداری نے اپنے اور بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کرادی ہیں جبکہ سابق اٹارنی جنرل عبدالقیوم کو جائداد کی تفصیلات جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے این آر او کے ذریعے ملکی خزانے کواربوں روپے نقصان پہنچانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی ۔اس موقع پر پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ نے میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل پاکستان آنے کو تیار ہیں مگر ان کے ڈاکٹرز کو باقاعدہ ملنے کی اجازت دی جائے اور پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں نہ ڈالا جائے۔ اختر شاہ نے پرویز مشرف کی بیماری راز میں رکھنے کی استدعا بھی کی۔چیف جسٹس نے جواب دیا کہ مشرف اپنا نام ای سی ایل سے نکالنے کی باقاعدہ درخواست دیں۔ آئندہ پیر کو آجائیں کوئی ان کو گرفتار نہیں کرے گا، دیگر عدالتوں کو کہہ دیں گے کہ آرٹیکل 6 کے مقدمے کو مدنظر رکھیں، ممکن ہے علاج کے لیے دوبارہ باہر جانے کی اجازت مل جائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس مرض کے مریض پاکستان میں بھی ہیں ،دبئی میں علاج کے لیے کوئی اچھی جگہ نہیں ،پاکستان میں بہت اچھے ڈاکٹر موجود ہیں ،ہم کسی کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے ، پرویز مشرف آئیں بیان ریکارڈ کرائیں جب علاج کے لیے باہر جانا ہو چلے جائیں ۔علاوہ ازیں آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر اور بی بی شہید کی جائداد کی تفصیلات بند لفافے میں پیش کیں تو چیف جسٹس نے کہا فاروق نائیک صاحب اپنی پارٹی کے لوگوں کو بتا دیں منصف کسی سے ملے ہوتے ہیں نہ جانبدار ہوتے ہیں۔ عدالت نے ملک قیوم سے اثاثوں کے متعلق بیان حلفی طلب کرتے ہوئے سماعت نومبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ