احتساب کے نام پر انتقام کی بھرپور مزاحمت کریں گے،پیپلزپارٹی

71

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا تو بھر پور مخالفت کریں گے۔ پیپلز پارٹی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ پارلیمنٹ اور اس کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی اورلفظی جنگ جمہوری عمل کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔پیپلز پارٹی کی سینئرقیادت کا ایک غیر معمولی اجلاس جمعرات کی شام بلاول ہاؤسکراچی کے بجائے پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر شاہ کی قیام گاہ پر ہوا جس کی مشترکہ طورپر صدارت سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کی۔اجلاس میں ایم این اے فریال تالپور، سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف،سید خورشید احمد شاہ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، نثار احمد کھوڑو، نیئر بخاری، میاں رضا ربانی، منظور وسان اور دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے قریبی حلقوں سے معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کا مقصد ملک میں جاری موجودہ سیاسی صورتحال ، احتساب کے نام پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے گرد منڈلانے والے خطرات اور اس کے نتیجے میں مرتب ہونے والے ممکنہ سیاسی اورانتظامی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اس وقت انتہائی دشوار اور صبر آزما صورتحال سے گزررہی ہے ایک طرف اس کی اعلیٰ قیادت کو منی لانڈرنگ اور کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور دوسری جانب اس کی صوبائی حکومت سے اس کی گزشتہ 10سال کے مالی معاملات کا حساب مانگا جارہا ہے۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ احتساب کی جو تند و تیز لہر پنجاب سے شروع ہوئی تھی اب اس کا رخ بظاہر سندھ کی جانب نظر آتا ہے اور اس صورتحال نے پوری پیپلز پارٹی کو ایک انجانے خوف اور پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو صورتحال کی سنگینی کا پوری طرح اندازہ ہے اور غالباً اسی سبب جمعرات کو ہونے والا غیر رسمی مشاورتی اجلاس بلاول ہاؤس کے بجائے سید نوید قمر کی رہائش گاہ پر منعقد کیا گیا تاکہ اجلاس میں زیر بحث آنے والے امور کی راز داری کو برقرار رکھا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک بعض قانونی ماہرین نے اعلیٰ قیادت کے خلاف جے آئی ٹی کی جانب سے شروع کی جانے والی تحقیقات، اس کی جانب سے سندھ حکومت کے ایک درجن سے زائد انتظامی محکموں سے طلب کردہ ریکارڈ کے بارے میں بھی اپنا قانونی نقطہ نظر پیش کیا اور اس حوالے سے ممکنہ طور پر مرتب ہونے والے قانونی ، انتظامی اور سیاسی مضمرات پر اظہار خیال کیا۔بعد ازاں پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ عمران خان دوسرے ڈکٹیٹر کی طرح کردار ادار کررہے ہیں ،ہم تو پہلے دن سے سن رہے ہیں کہ ہمیں گرفتار کیا جارہا ہے، لگتا ہے عمران خان کو یقین نہیں آرہاکہ وہ وزیراعظم بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو پی پی دیوار بن جائے گی، پیپلزپارٹی صوبوں کے حقوق کو کم کرنے نہیں دے گی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.