پاکستان کو چین کے قرض کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کے لیے جانا پڑا، امریکا

111

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کو چین کے قرض کی ادائیگی کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے پاس مزید قرضہ لینے کے لیے جانا پڑا ہے۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ میری دانست میں پاکستان کی حکومتوں کو چین سے لیے گئے قرضے کی ادائیگی کے لیے سنگین صورت حال کا پیشگی اندازہ نہیں تھا تاہم اب انہیں بیل آؤٹ کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ رہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے باضابطہ طور پر آئی ایم ایف سے قرضے کی صورت میں مدد طلب کرلی ہے تاکہ چین سے لیے گئے قرضے کو اتار سکے۔ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے معاملے پر پاکستان سے بات کی تھی۔

ترجمان ہیدر نوئرٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا اس سارے معاملے کا بڑی باریک بینی سے مشاہدہ کررہے ہیں اور پاکستان کے آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے امریکا کی پالیسی واضح ہے۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور اقتصادی ٹیم کے دیگر ارکان نے آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات بھی کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.