سعد رفیق،ثناء اللہ زہری اور منظور وسان کیخلاف نیب تحقیقات کی منظوری

44

اسلام آباد(صباح نیوز،اے پی پی)قومی احتساب بیورو(نیب)نے سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری ، منظور وسان کے خلاف نیب انکوائریوں کی منظوری دے دی۔نیب کے چیئرمین جسٹس( ر)یٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹوبورڈ کا اجلاس ہوا جس میں بورڈ نے 9 انکوائریوں کی منظوری دی۔نیب اعلامیے کے مطابق سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری، سابق وفاقی وزیر منظور وٹو اور سندھ کے سابق صوبائی وزیر منظور وسان کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی افتخار گیلانی، ڈپٹی آڈیٹر جنرل غلام محمد میمن اور خیبر پختونخوا کے احتساب کمیشن کے افسران کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ اجلاس میں انکوائریوں کے علاوہ 22 انویسٹی گیشنز کی بھی منظوری دی گئی جن میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار، انوشے رحمان، سابق چیئرمین پی ٹی اے اسماعیل شاہ ،عبدالصمد،سابق ممبرز پی ٹی اے، طارق سلطان ، رضوان احمد، سابق ڈی جی پی ٹی اے امجد مصطفی ملک ، ڈائریکٹر پی ٹی اے، وسیم طارق سابق ڈی جی اے پی ٹی اے اور میسرز وارد ٹیلی کام خواجہ سعد رفیق ،خواجہ سلمان رفیق ، ندیم ضیاء، قیصر امین بٹ، پیراگاؤن سٹی لاہور کی انتظامیہ، کامران لاشاری ، سابق چئیرمین سی ڈی اے ، کامران علی خان قریشی ، سابق ممبر فنانس ، شوکت علی مہمند سابق ممبر ایڈمن ، اسد منیر سابق ممبر اسٹیٹ ، مظہر حسین سابق ممبر انوائرنمنٹ معین الدین کاکا خیل، سابق ممبر انجینئرنگ /پلاننگ سی ڈی اے ،غلام سرور سندھو، ڈی جی منیر جیلانی، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ سی ڈی اے اور محمد حسین ایم ڈی آف میسرز ڈی ٹی ایس ، کریک مرینہ پراجیکٹ کراچی ،راجہ محمد ذرات خان ودیگر شامل ہیں نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے گل حسن چنا، سابق سیکرٹری آر اینڈ ایس، ای پی، بورڈ آف ریوینیو حکومت سندھ گل حسن چنا,افتخار حیدر، سابق ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ،سید عمر احمد،سرفراز مرچنٹ،شاہد رسول،سید محمد مجتبٰی، مرزا افضل بیگ ،اویس مرزا جمیل اور فرید ثریاکے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائرکرنے کی منظوری دی۔ملزمان پرمبینہ طورپر اختیارات کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے 769 ایکڑ سرکاری زمین غیر قانونی طور پرمن پسند پرائیویٹ افراد کو الاٹ کرنے کاالزام ہے جس سے قومی خزانے کو48کروڑ اور 40 لاکھ روپے کانقصان پہنچا۔ بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس نے سابق وفاقی سیکرٹری کامرس حکومت پاکستان محمد شہزاد ارباب ،عمران احمد چودھری،سابق سیکرٹری ایکسپورٹ پالیسی ایف بی آر ، آفیسرز /آفیشلز کسٹم کلیکٹوریٹ پشاور اور فاٹا کے کلیئرنگ ایجنٹس کے خلاف انکوائری بند کرتے ہوئے وزارت کامرس حکومت پاکستان کو واپس بھجوانے کی منظوری دی۔قومی احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ تمام تحقیقات الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جو کہ حتمی نہیں اور نیب متعلقہ افراد سے قانون کے مطابق ان کا موقف معلوم کرے گا۔ چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا ہے کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے ۔نیب کے افسران ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ’ احتساب سب کے لیے ‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ نیب بدعنوانی کے خاتمہ کو نہ صرف اپنی قومی زمہ داری سمجھتا ہے بلکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کرپشن فری پاکستان کے لیے بھر پور کاوشیں کررہے ہیں۔ انہوں نے نیب کے افسران کوہدایت کی کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شواہد کی بنیا د پر مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے ورنہ افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.