بند کمروں میں توہین عدالت قانون میں تبدیلی کی اجازت نہیں دینگے،عبدالغفور حیدری

100

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جے یوآئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ بند کمروں میں بیٹھ کر توہین رسالت قانون میں ترمیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، جس میں جے یوآئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے الیکٹرونک کرائمز ترمیمی بل میں اپنی ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرونک کرائمز بل کی شق نمبر27 جی کو حذف کیا جائے‘ اس شق کے مطابق توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو وہی سزا یعنی سزائے موت ہوگی جو اس جرم کی ہے‘ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے سزائے موت نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ شق27 جی پہلے سے موجود اصول سے انحراف اور مقدمہ درج کرانے والے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے‘ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے توہین رسالت قانون میں ترمیم لائی جا رہی ہے۔ مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ ملک میں ہر دوسرے قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے‘ کیا سارے قوانین تبدیل کردیں گے؟ اگر کوئی شخص قتل کا الزام ثابت نہ کرسکے تو اس کوسزائے موت دی جائے گی‘ اس معاملے پرقومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھرپور مزاحمت کریں گے جب کہ آئندہ کمیٹی کے اجلاس میں نہیں بیٹھوں گا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ توہین رسالت کے حوالے سے قوانین پہلے سے بنے ہوئے ہیں‘ میں اس قانون کوچھیڑنے کے حق میں نہیں‘ اس سے ملک میں افراتفری ہوگی۔ چیئرمین کمیٹی روبینہ خالد نے کہا کہ جھوٹی گواہی دینے پر قذف کا قانون موجود ہے‘ جھوٹے الزامات کی سزا سخت نہ ہو لیکن سزا ضرور ہونی چاہیے۔ سینیٹررحمن ملک نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے چیمپین امریکا اور یورپ ہمارے مذہب کو توہین کا نشانہ بناتے ہیں‘ قانون میں یہ چیز ڈالیں کہ اگر بیرون ملک کوئی ہمارے نبی کی توہین کرے تواس کو ہم یہاں طلب کریں‘ توہین رسالت کا الزام لگانے والے کے لیے سزا کے معاملے کو ان کیمرا اجلاس میں زیربحث لایا جائے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سلمان تاثیرکا قتل بہت غلط اقدام تھا‘ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ مولانا عبدالغفور حیدری اور تحریک انصاف کے سینیٹر فدا محمد کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ