بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈر انجینئرز کی اسامی کے لیے نااہل قرار 

424

کراچی (رپورٹ: محمد انور) عدالت عظمیٰ نے بیچلر آف ٹیکنالوجی (بی ٹیک) اور ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر (ڈی اے ای) کے حامل افراد کو پبلک سیکٹر میں انجینئرز کی اسامیوں کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ کے3 رکنی خصوصی بینچ نے دیا‘ بینچ جسٹس گلزار احمد، جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس سردار طارق مسعود مشتمل تھا۔ فیصلہ ڈپلومہ ہولڈرز اور بی ٹیک ڈگری ہولڈر کی پٹیشن پر دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ایکٹ کے تحت کوئی بھی ایسا شخص کسی ایسی انجینئرنگ کی اسامی پر کام نہیں کرسکتا جو پی ای سی کے رجسٹرار یا پی ای سی کے قوانین کے تحت رجسٹرڈ انجینئر نہ ہو۔
جبکہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ڈپلومہ ہولڈرز اور بے ٹیک ڈگری ہولڈرز کو انجینئرز کی کٹیگری میں شمار نہیں کرتی۔ اس لیے ان بی ٹیک ڈگری اور ڈی اے ای سرٹیفکیٹ کے حامل افراد کو گریڈ 18 کے انجینئر کی اسامی پر ترقی بھی نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے حکومت کو بھی ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کو انجینئرز کی اسامی پر ترقی دینے کی بھی سفارش نہ کی جائے جسے پی ای سی نے تسلیم نہ کیا ہو۔ عدالت نے کہا کہ پی ای سی ایکٹ 27 میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی ایسی اسامی پر کوئی ایسا شخص کام نہیں کرسکتا جو پی ای سی کے قوانین کے تحت انجینئر نہ ہو۔ خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈرز سرکاری اداروں کے ملازمین بری طرح متاثر ہوں گے کیونکہ پاکستان انجینئرنگ کونسل اپنے قوانین کے تحت بیچلر آف انجینئرز ( بی ای ) کو پروفیشنل انجینئرز تسلیم کرتی ہے ۔ جن اداروں کے ملازمین زیادہ متاثر ہوں گے انمیں سندھ کا محکمہ ایرگیشن، برقیات، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، واپڈا اور تمام واٹر اور پاور پروجیکٹس بھی شامل ہیں۔ خیال ہے کہ اس فیصلے کے بعد کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت تمام ایسی اسامیوں سے نان ٹیکنیکل افسران کو ہٹادیا جائے گا جو فنی نوعیت کی اسامیوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ واٹر بورڈ کے اربوں روپے مالیت کے پروجیکٹس کے فور پر نان انجینئر اسد ضامن اور ایس تھری پر نور احمد سموں تعینات ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.