نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کیلیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے‘قمر زمان

113

اسلام آباد (اے پی پی ) پاکستان اسکواش فیڈریشن کے نائب صدر قمر زمان نے کہا ہے کہ ملک میں نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے اسکولز، کالجز اور یونیورسٹی سطح پرا سکواش کورٹس کی ضرورت ہے، پشاور اسکواش کا گڑھ ہے جہاں سے 7 نامور کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ بدھ کو ’’سرکاری خبررساں ادارے‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پروفیشنل اسکواش ایسوسی ایشن نے رواں سال پاکستان کو 19 بین الاقوامی ایونٹس کی منظوری دی ہے جن میں سے کئی ایونٹ اسلام آباد میں منعقد ہوچکے ہیں اور لاہور میں پی ایس اے کا ایونٹ جاری ہے جبکہ آئندہ ماہ کراچی میں پی ایس اے کا ایونٹ کھیلا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ا سکواش کی بہتری کے لئے اسپانسر کو کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ اتنے بڑے ایونٹس کے لئے اسپانسرز کا ہونا بہت ضروری ہے۔ قمر زمان نے کہاکہ پشاور اسکواش کا گڑھ رہا ہے کیونکہ 7 نامورسابق کھلاڑیوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے جن میں ہاشم خان، اعظم خان، روشن خان، محبوب اللہ سینئر، قمرزمان ، جہانگیر خان اور جان شیر خان شامل ہیں۔ پشاور میں اب تک پی ایس اے کے مقابلے بحال نہیں ہوئے۔ فیڈریشن نے پشاور میں عالمی مقابلے بحال کرانے کے لئے ورلڈ اسکواش فیڈریشن کو تحریری طورپر مراسلہ بھجوایا ہے۔ امید ہے کہ پشاور میں دیگر شہروں کی طرح بین الاقوامی مقابلے بحال ہو جائیں گے۔ نائب صدر نے کہا کہ پاکستان میں نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور علاقائی سطح پر اسکواش کورٹ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں حال ہی میں ایسے کھلاڑی موجود نہیں جو سابق کھلاڑیوں کی کمی کو پورا کرسکیں لیکن امید رکھتے ہیں کہ آئند تین سالوں میں ایسے کھلاڑی سامنے آئیں گے جو سابق نامور کھلاڑیوں کی جگہ لے سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان خود ایک اسپورٹس مین رہے ہیں ان سے کھیلوں کے حوالے سے اچھی توقعات وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسکواش ایک فل ٹائم گیم ہے۔ اس میں کھلاڑیوں کو سخت محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں اسکواش کے فروغ کے لئے نچلی سطح پر جال بچھانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اسکواش فیڈریشن اور ایئر فورس کی جانب سے ملک میں اسکواش کی بہتری کے لئے کوششیں جاری ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.