جناب وزیر اعظم! یہ قلعہ مسمار نہ ہونے دیجیے

111

محمود ریاض الدین

اگر پاکستان اسلام کا قلعہ کہلاتا ہے تو خود پاکستان کا قلعہ ریڈیو پاکستان ہے جو گزشتہ 71سال سے اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتا چلا آرہا ہے۔ تاہم اس ریاستی ادارے کا کردار یہیں تک محدود نہیں ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے کہ پاکستان اور ریڈیوپاکستان ایک ہی وقت میں معرض وجود میں آئے تھے نیز بھارت کے ساتھ دونوں جنگوں میں صوتی محاذ پر ریڈیو پاکستان کی خدمات اور کردار کو بھی اکثر وبیش تر اجاگر کیا جاتا رہا ہے لیکن آج میں ریڈیوپاکستان کے ایک انتہائی حساس شعبے کے بارے میں چند سطور سپرد قلم کررہا ہوں (تفصیلاً لکھنا بوجوہ ممکن نہیں) جس نے نہ صرف صوتی محاذ پر بلکہ پاکستان کی خارجہ و دفاعی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ماضی میں سربراہان مملکت وحکومت مختلف مواقع پر زبانی اور تحریری طور پر اس کا اعتراف کرتے رہے ہیں۔ اس طرح ریڈیوپاکستان بالواسطہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا بھی محافظ رہا ہے۔
ریڈیو پاکستان کا یہ شعبہ جسے سینٹرل مانیٹرنگ ونگ کہا جاتا ہے، شاہراہ دستور پر واقع چوبیس گھنٹے مستعد و فعال اسی سات منزلہ عمارت میں قائم ہے جسے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری تواتر کے ساتھ ’’ڈیڈ پراپرٹی‘‘ یعنی مردہ یا بیکار عمارت قرار دے رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کا یہ ونگ بھی قیام پاکستان کے ساتھ ہی معرض وجود میں آگیا تھا اور خبروں کے حصول کے دیگر ذرائع ناپید ہونے کی وجہ سے مانیٹرنگ ونگ کی جانب سے فراہم کیا جانے والا مواد ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے پہلے ہی نیوز بلیٹن سے شامل ہونا شروع ہو گیا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ونگ میں تیار کی جانے والی رپورٹیں پہلے بھارتی پروپیگنڈے کے جواب کا ذریعہ بنیں اور اس کے بعد وطن عزیز کی خارجہ و داخلی پالیسیوں کی تشکیل میں ان کا کردار نمایاں رہا۔
سینٹرل مانیٹرنگ ونگ سے بی بی سی، وائس آف امریکا، وائس آف جرمنی، آل انڈیا ریڈیو، ریڈیو سرینگر، ریڈیو جموں، ریڈیو لداخ، ریڈیوکابل، ریڈیو تہران، ریڈیو زاہدان، ریڈیو بیجنگ، ریڈیو فرانس، ریڈیو آسٹریلیا، ریڈیو کویت، دبئی ریڈیو اور ریڈیو جدہ سمیت دنیا کے متعدد ریڈیو اسٹیشنوں سے انگریزی، اردو، ہندی، پشتو، سندھی، بلوچی، فارسی اور عربی وغیرہ میں نشر ہونے والے مواد کو مانیٹر کرکے اور پھر انہیں انگریزی زبان کے قالب میں ڈھال کر مختلف اوقات میں بیک وقت ایک سے زیادہ رپورٹیں شائع ہوتی رہی ہیں جن میں ڈیلی مانیٹرنگ رپورٹ، significant نیوز آئٹمز رپورٹ اور ویکلی نیوز انالسز رپورٹ قابل ذکر ہیں۔ تاہم اسپیشل مانیٹرنگ رپورٹ پہلے ہی دن سے آج تک بلاناغہ شائع ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ 1977ء اور 1985ء کے انتخابات کے موقع پرکئی کئی ماہ تک الیکشن ڈائجسٹ شائع کیے جاتے رہے۔
ریڈیو پاکستان کو اگر ریاست و حکومت کا ماؤتھ پیس (mouthpiece) کہا جاتا ہے تو اس کے شعبہ مانیٹرنگ کو ریاست و حکومت کے کان کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ایک اچھے مانیٹر کے لیے جہاں غیرمعمولی سماعت کا حامل ہونا لازمی ہے وہاں متعلقہ زبان پر اس کی دسترس اور انتہائی تیزی سے انگریزی میں ترجمہ کرنے میں مہارت، حالات حاضرہ پر گرفت نیز بے لاگ تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونا ضروری ہے۔ یہ اتنا حساس کام ہے کہ ایک نکتے کی اونچ نیچ سے ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ خود راقم شعبہ مانیٹرنگ سے طویل وابستگی کے دوران معمولی سہو پر چارج شیٹ ہوا، اس کی سالانہ انکریمنٹ ضبط کی گئی، موواوور سے محروم کیا گیا۔ لامحالہ اس سب کا اثر سالانہ پرفارمنس evaluation رپورٹوں اور ترقیوں پر پڑا۔
سینٹرل مانیٹرنگ ونگ میں پہلی شفٹ صبح تین بجے شروع ہوتی ہے جب کہ آخری شفٹ جس میں رات بارہ بجے تک مانیٹر کیے جانے والے مواد کو کتابی شکل میں مرتب کیا جاتاہے، صبح اڑھائی بجے ختم ہوتی ہے اور پرنٹنگ اور بائنڈنگ کا عمل صبح چار بجے تک جاری رہتا ہے۔ اس طرح اس شعبے میں کام دن رات چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے اور ہنگامی حالت میں رخصت لینے کا کوئی تصور نہیں ہے (اپریل2004ء میں راقم کو رات ڈیڑھ بجے ہمشیرہ کے انتقال کی خبر ملی لیکن فوری طور پر چھٹی لے کرآبائی علاقے میں جانا ممکن نہ تھا ورنہ مانیٹرنگ رپورٹ کی اشاعت میں تعطل آجاتا، چناں چہ راقم کے لیے رات اڑھائی بجے شفٹ ختم ہوجانے کے بعد آبائی علاقے کو جانا ممکن ہوا)۔
شعبہ مانیٹرنگ میں مانیٹر کیے جانے والے مواد میں سے اہم واقعات پر مبنی خبریں ریڈیوپاکستان کے اپنے خبرناموں کی زینت بنتی رہی ہیں جبکہ تبصرے، انٹرویوز، ٹاک شوز اور خصوصی پروگرام ملک کی خارجہ و داخلی پالیسیوں کا رخ متعین کرنے میں ممد ثابت ہوئے ہیں۔ اس مواد پر مبنی مندرجہ بالا رپورٹیں صدر اور وزیراعظم سمیت مختلف شخصیات کو بھجوائی جاتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ریسرچ انسٹی ٹیوٹس مانیٹرنگ رپورٹوں کے حصول کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ پاکستان کی 71سالہ تاریخ میں ریڈیو مانیٹرنگ رپورٹوں کی اشاعت میں ایک دن کا بھی تعطل نہیں ہوا۔
سینٹرل مانیٹرنگ ونگ 10؍اکتوبر 1975ء کو کراچی سے راولپنڈی اور مئی 1983ء کو راولپنڈی سے اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر واقع سات منزلہ عمارت میں شفٹ ہوا۔ پورے پاکستان کے ریڈیو اسٹیشنوں کے مرکزی شعبہ ہائے انتظامیہ و اکاؤنٹس اور ریڈیو پاکستان اسلام آبادکے علاوہ مرکزی شعبہ خبر، نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز چینل، شعبہ مانیٹرنگ، شعبہ پروگرام، ورلڈ سروس، ایکسٹرنل سروس، شعبہ انجینئرنگ، صوت القرآن چینل، ایف ایم۔ 93، ایف ایم 94- اور ایف ایم۔101 نیزجدید ترین سہولت کے حامل شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ریڈیو پاکستان ہیڈ کوارٹرز کی اس قلعہ نما عمارت میں یکجا کرنے کا مقصد جہاں مختلف شعبوں میں باہمی رابطہ قائم کرنا تھا وہیں خبروں اور پروگراموں کو سامعین تک پہنچانے میں تیزی لانا تھا۔ چناں چہ ان شعبوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کرنے سے فنڈز اور وقت دونوں کی بچت ہوئی نیز سب شعبوں کے سربراہوں کے ایک جگہ اکٹھا ہونے سے ادارے کی پالیسیوں کی تشکیل میں آسانی پیدا ہوئی اور یوں یہ عمارت پالیسی سازی کا مرکز بھی بنی۔
بہرحال مختلف اوقات میں اہم عہدوں پر فائز شخصیات مانیٹرنگ رپورٹو ں سے خصوصی استفادہ کرتی رہی ہیں۔ بالخصوص مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اور مرحوم جنرل ضیاء الحق کے دور میں ریڈیو پاکستان کے شعبہ مانیٹرنگ کو عروج حاصل رہا اور آل انڈیا ریڈیو، ریڈیو سرینگر، ریڈیو جموں، ریڈیو لداخ، ریڈیو کابل اور ریڈیو تہران سے نشر ہونے والے معاندانہ پروپیگنڈے کا بھر پور جواب دیا جاتا رہا اور مذکورہ شخصیات اکثر اس شعبہ میں توسیع کی خواہش کا اظہار کرتی رہیں۔
یہاں یہ ذکر کرنا بے جانہ ہوگا کہ یہ جنرل ضیاء کی کامیاب خارجہ پالیسی اور حکمت عملی کا اعجاز تھا کہ ایک وقت میں پاکستان کو افغان مسئلے پر اقوام متحدہ میں 146 ممالک کی حمایت حاصل ہوچکی تھی۔ اس کی وجہ جنرل ضیاء کی وسیع مطالعے کی عادت تھی۔ وہ اپنی مرضی کی سمریوں پر انحصار نہیں کرتے تھے بلکہ اخبارات کا بغور مطالعہ کرنے کے علاوہ غیرملکی ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر ہونے والے مواد پر مشتمل روزانہ شائع ہونے والی ریڈیو پاکستان کی مانیٹرنگ رپورٹ کا بغور مطالعہ کرتے اور اہم نکات پر اپنے سبز قلم سے نشان لگاتے۔ حکم تھا کہ یہ رپورٹ روزانہ صبح تین بجے ان تک پہنچ جائے۔ رپورٹ میں غیرملکی اسٹیشنوں سے پاکستانی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے تک نشر ہونے والا مواد شامل ہوتا تھا۔ لیکن جنرل ضیاء کی خواہش پر صبح چار بجے سے لے کر آٹھ بجے تک کی غیرملکی نشریات کے مواد کی ایک نقل بھی روزانہ انہیں بھجوائی جانے لگی۔ وہ اس نقل کا بھی بغور مطالعہ کرتے تھے۔
1983ء میں راقم ریڈیو پاکستان میں نیا نیا اردو مانیٹر بنا تھا، ایک روز اسے ڈپٹی کنٹرولر سید نائب حیدر صاحب کی جانب سے آرمی ہاؤس سے وا پس آنے والی مانیٹرنگ رپورٹ ملی۔ راقم کی تیار کی ہوئی ایک رپورٹ پر سبز سیاہی سے لکھا ہوا تھا “Good English rendering” اور نیچے ضیاء لکھا تھا۔ چناں چہ اس کے بعد راقم غیر معمولی طور پر محتاط ہوگیا۔ تاہم اگلے ہی سال نوکری جاتے جاتے بچی۔ ایک روز صبح ڈیوٹی ختم کرکے ابھی گھر پہنچا ہی تھا کہ دفتر کی گاڑی پہنچ گئی جس میں فوراً دفتر پہنچنے کو کہا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ کچھ دیر پہلے میں جو رپورٹ فائل کرکے گیا تھا، اس کا جنرل ضیاء نے سخت نوٹس لیا ہے، میں نے ہلاک ہونے والے سوویت فوجیوں کی کل تعداد تین ہزار کے بجائے سہواً تیس ہزار لکھ دی تھی اور جنرل ضیاء نے اس اسٹوری کے حاشیے میں یہ ریمارکس لکھے تھے: This is not even total strength of Soviet troops in Afghanistan. Pl ask the man to be extra careful while quoting figures. No action needed against him. میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگرجنرل ضیاء نے آخری جملہ نہ لکھا ہوتا تو میں نوکری سے فارغ ہو جاتا یا پھر کم از کم میری تنزلی ہوجاتی جبکہ میں پچھلی دوپوسٹوں پر ابھی آزمائشی مدت کے دوران ہی ٹیسٹ پاس کرکے نیوز مانیٹر بن گیا تھا اور تنزلی کی صورت میں بھی نوکری سے فارغ ہوجاتا۔
ان دنوں ریڈیو کابل سے پاکستان اور صدر پاکستان کے خلاف انتہائی زہریلا پروپیگنڈا اپنے عروج پر تھا۔ تمام صحافتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے ریڈیو کابل سے ضیاء الحق کو ضیاء الباطل، ضیاء القاتل، امیر القاتلین اور امیر الظالمین تک کہہ کر پکارا جاتا اور ہم ان الفاظ کو اسی طرح نقل کردیتے لیکن اس پر کبھی ہماری جواب طلبی نہیں ہوئی۔ ریڈیو پاکستان نے جنرل ضیاء کو بھجوائی جانے والی رپورٹ کو عمدہ کوالٹی کے کاغذ پر چھاپنا شروع کردیا تھا۔ ایک دن غلطی سے عام کاغذ پر شائع ہونے والی رپورٹ ان تک پہنچ گئی۔ فوراً اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل سید سلیم گیلانی کو جنرل ضیاء کی طرف سے ایک صفحے پر مشتمل خط آگیا جس میں مانیٹرنگ رپورٹ کی تعریف کے بعد لکھا گیا تھا ’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ مانیٹرنگ رپورٹ کے دو ایڈیشن شائع ہو رہے ہیں اور مجھے ڈیلکس ایڈیشن بھجوایا جارہا ہے، مجھے عمدہ کاغذ میں نہیں بلکہ مواد کے عمدہ معیار میں دلچسپی ہے، اس لیے مجھے رپورٹ کا آرڈنری ایڈیشن ملنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘‘۔ اس سے سینٹرل مانیٹرنگ ونگ سے شائع ہونے والی رپورٹوں کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
دفترخارجہ میں دوسرے ممالک سے بھی مانیٹرنگ رپورٹس آتی تھیں اور جنرل ضیاء غیرملکی حکمرانوں کی نفسیات جاننے کے لیے ان کا بغور مطالعہ کیا کرتے تھے۔ اپنے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے جنرل ضیاء نے چین سے آنے والی مانیٹرنگ رپورٹ اس خواہش کے ساتھ ریڈیوپاکستان کو بھجوائی تھی کہ ریڈیو پاکستان بھی اپنے رپورٹ اسی انداز میں بنائے۔ اپنے دور حکومت میں انہوں نے دوسرے ممالک کے حکمرانوں کی نفسیات سے خوب فائدہ اٹھایا اور نام کمایا۔ اس سلسلے میں ان کی 17جنوری 1984ء کو مراکش کے شہر کاسا بلانکا میں اسلامی سربراہ کانفرنس میں کی جانے والی تاریخی تقریر اور 21فروری 1987ء کو جے پور میں کرکٹ میچ کے دوران بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے ’’باؤنسر‘‘ (آپریشن براس ٹیکس) پر جنرل ضیاء الحق کے ’’چھکے‘‘ کی مثال دی جاسکتی ہے۔
آج جب پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک مرتبہ پھر تنہائی کا شکار ہے اور ریڈیو پاکستان کی مانیٹرنگ رپورٹوں سے استفادہ کرکے اس تنہائی سے چھٹکارا حاصل کی جاسکتا ہے، وزیر اطلاعات فواد چودھری اس سات منزلہ عمارت کو لیز پر دینے پر مصر ہیں۔ شاید وہ بالکل بے بہرہ ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ یہ عمارت محض گارے مٹی سے بنا ہوا ڈھانچہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی عظمت کی علامت ہے۔ وزیر موصوف نہیں جانتے کہ ادارے دہائیوں اور صدیوں میں بنتے ہیں۔ ان کے ایک غلط فیصلے سے پاکستان کا یہ نظریاتی قلعہ چشم زدن میں ڈھے جائے گا اور یہی دشمن کا مطمح نظر بھی ہے۔ میری وزیر اعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ جناب وزیراعظم! پاکستان کے اس نظریاتی قلعہ کو مسمار ہونے سے بچائیے کہ اس عمارت کو ’’ڈیڈ پراپرٹی‘‘ کہنے والوں کی اپنی سوجھ بوجھ ’’ڈیڈ‘‘ ہو چکی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ