امریکا کی غلامی ’’خارجہ پالیسی‘‘ کا تسلسل جاری

84

حکومت پاکستان جب بار بار کہتی ہے کہ افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں تو پھر افغانستان میں موجود غیر ملکی حملہ آور اور قابض افواج کے اِنخلا کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا، کیا اس طرح کے کسی مطالبے سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا گیا؟؟ یوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اب ہم دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے۔ بہت اچھی بات ہے تاہم اس پر پہلا سوال تو یہ ہے کہ دوسروں کی جنگ کون کب سے لڑ رہا تھا اُس کی بھی وضاحت کردی جاتی تا کہ قوم کو معلوم ہوجاتا کہ ہمارے وہ کون سے جنرل اور وزیراعظم ہیں جن کو کرایہ بھی نہیں ملتا مگر پھر بھی وہ کرائے کی جنگ لڑتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ جناب والا افغانستان پر حملہ آور امریکی و ناٹو افواج کو جب تک پاکستان کے راستے سے گزرنے (ناٹو سپلائی) کی اجازت رہے گی تب تک آپ کس طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے۔ ناٹو سپلائی کا پاکستان کی سرزمین سے گزرنے کا مطلب ہی دوسروں کی جنگ لڑنا ہے جس میں عسکری اور سیاسی قیادت برابر کے ملوث ہیں اور مزید کہ جی ایچ کیو میں یوم دفاع کی مناسبت سے جب وزیراعظم صاحب یہ فرمارہے تھے کہ اب ہم دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے وہاں یہ کیوں نہیں کہا کہ اب ہم پاکستان کی جنگ لڑیں گے اور وہ جنگ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کی جنگ ہوگی۔ اُس مقبوضہ کشمیر کو جس کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کی ’’شہہ رگ‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے چند روز بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر کابل تشریف لے گئے وہاں اُن تمام باتوں پر اتفاق کیا گیا جو واشنگٹن انتظامیہ اور کابل کے کٹھ پتلی حکمران چاہتے تھے۔ کابل کا اعلامیہ یہ سمجھانے اور بتانے کے لیے کافی ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ کابل امریکی ایجنڈے پر عمل درآمد ہی کی ایک کوشش تھی۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ 25 جولائی 2018ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی تحریک انصاف کو جب اقتدار ملا تو ایران، امریکا، چین اور ترکی کے وزرائے خارجہ نئی حکومت کے ساتھ اپنے اپنے نقطہ نظر سے تعاون اور اظہار یکجہتی کرنے اسلام آباد تشریف لائے، تاہم حیران کن اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان جس کی خاطر پاکستان ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان اُٹھا چکا ہے اور مزید اُٹھا رہا ہے اُس کا وزیر خارجہ اسلام آباد دورے پر نہیں آیا بلکہ پاکستان کے وزیر خارجہ کو کابل جانا پڑا اور وہاں جا کر کٹھ پتلی حکمرانوں کو باضابطہ دعوت دی گئی جس پر افغان صدر اور وزیر خارجہ نے دعوت قبول کرتے ہوئے آئندہ ماہ پاکستان آنے کا وعدہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کے بڑے اور طاقتور ممالک کے وزرائے خارجہ پاکستان آئیں اور پاکستان جو ایٹمی طاقت کا حامل اور افغانستان کا محسن ملک ہے اُس کا وزیر خارجہ کابل کے اقتدار پر قابض ’’امریکی جلادوں‘‘ سے ملاقات کے لیے اُن کے دروازے پر جا پہنچے، کس قدر توہین آمیز ہے اس کا اندازہ ایک عزت دار اور غیرت مند پاکستانی ہی کرسکتا ہے مگر شاید نیازی صاحب اور قریشی صاحب جیسے حکمرانوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ’’امریکی غلامی‘‘ کے طور طریقے اور نتائج کس قدر بھیانک ہیں۔۔۔ گو کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ دورہ نیویارک کے دوران یہ ضرور کہا ہے کہ ’’صرف امریکا کے دوست نہیں دیگر آپشن بھی کھلے ہیں، واشنگٹن خطے میں نئے ساتھی ڈھونڈ رہا ہے تو ہم بھی تنہا نہیں، حالات کے ساتھ دوست بھی بدل جاتے ہیں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ بہت ٹھیک بات ہے مگر ایسی بات جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران کہنی چاہیے تھی تاہم اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ’’پاک امریکا تعلقات‘‘ کو اب الفاظ میں نہیں تولا جاسکتا بلکہ اقدامات سے دیکھا جائے گا۔ امریکا الفاظ اور اقدامات دونوں میں اپنے مفادات کا تحفظ کررہا ہے جب کہ حکومت پاکستان کہتی کچھ اور کرتی کچھ ہے، عوام کو امریکی غلامی سے آزاد خارجہ پالیسی کا تاثر دیا جارہا ہے تاہم عملاً ایسا نہیں ہورہا جس کا فی الحال یہ ثبوت کافی ہے کہ 26 ستمبر کے اخبارات میں وزیر خارجہ کے حوالے سے جو خبر شائع ہوئی ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی صدر ٹرمپ سے ملاقات، پاک امریکا تعلقات پر بات چیت اور امریکی صدر سے تعلقات کی ازسرنو تعمیر کی درخواست، جواب میں صدر ٹرمپ کا رویہ بہت مثبت تھا۔
بات بڑی واضح ہے اور وہ یہ کہ امریکا کی اس قدر زیادتیوں اور ناانصافیوں کے باوجود اگر پاکستان کا وزیر خارجہ امریکی صدر سے تعلقات کی ازسرنو تعمیر کی درخواست کررہا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں یہ دم نہیں کہ وہ امریکا کی غلام خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی لاسکے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غلامی کی زنجیروں اور طوق کے رنگ تو بدل دیے جائیں گے مگر گردن اور بازو وہی رہیں گے جن پر ’’امریکی غلامی‘‘ کے نشان پہلے سے موجود ہوں گے، ویسے بھی خاندانی اور روایتی غلام بادشاہ بدلنے سے اپنی ڈیوٹی نہیں بدلا کرتے۔
ہم پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کو ناکام قرار دیتے ہوئے اللہ ربّ العزت سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ایسی غیرت مند، بہادر، مدبر اور بابصیرت قیادت کا سایہ عطا فرمائے جس کا اقتدار نہ صرف پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کا ضامن ہو بلکہ عوام کی اُمنگوں اور جذبات کا ترجمان بھی ہو جب کہ عالم اسلام کے لیے بھی ایک امید کی کرن اور حوصلے کا سبب ہو جس سے بجا طور پر یہ امید کی جاسکتی ہو کہ وہ دنیا بھر کے مظلوم عوام اور باالخصوص مسلمانوں کی مدد کے لیے محمد بن قاسمؒ ، صلاح الدین ایوبیؒ ، محمود غزنویؒ اور ٹیپو سلطان شہید جیسا کردار ادا کریں گے۔ آمین ثم آمین۔

Print Friendly, PDF & Email