ادلب سے بھاری ہتھیار نکالنے کے بعد اپوزیشن از سر نو منظم

29

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) روس اور ترکی کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے تحت شام کے صوبے ادلب میں غیر فوجی علاقے سے بھاری ہتھیاروں کے انخلا کے لیے شامی اپوزیشن گروپوں کو دی گئی مہلت گزشتہ روز ختم ہوگئی۔ اس حوالے سے شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کے رکن یاسر الفرحان کا کہنا ہے کہ ادلب میں غیر فوجی علاقوں سے بھاری ہتھیاروں کا انخلا ایک مثبت اقدام ہے اور اس سے شامی عوام کو کئی فوائد حاصل ہوں گے۔ اس طرح بشار الاسد کی حکومت کا ساتھ دینے والوں کے پاس علاقے کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ علاوہ ازیں اپوزیشن کے علاقوں میں گھس آنے والے گروپوں کو ایسی غلطیوں کے ارتکاب سے بھی روکنے کا موقع مل جائے گا جس کی قیمت وہاں کی مقامی آبادی کو چکانا پڑتی ہے۔ الفرحان نے واضح کیا کہ انقرہ اور ماسکو حکومت کے درمیان مفاہمت ترکی کے ساتھ سرحدی پٹی پر کنٹرول کے حوالے سے کرد پروٹیکشن یونٹس کے منصوبوں کو بھی ناکام بنا دے گی۔ الفرحان نے باور کرایا کہ یہ سمجھوتا اس جمود کو بھی توڑ دے گا جو بشار حکومت نے جنیوا مذاکرات پر مسلط کیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں یہ معاہدہ شامی اپوزیشن کے لیے ایک موقع ہو گا کہ وہ اپنی صفوں کو از سر نو ترتیب دے اور اپنے مواقف میں وحدت پیدا کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ