اسکاٹ لینڈ نے برطانیہ سے علاحدگی کا عندہ دیدیا 

48

ایڈنبرگ؍برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) اسکاٹ لینڈ کی خاتون وزیراعظم نکولااسٹرجین نے بریگزٹ کے معاملے میں اختلاف کرتے ہوئے برطانیہ سے علاحدگی کا عندیہ دے دیا۔ اپنی سیاسی جماعت ایس این پی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تمام کارکنان کو ہدایت کی وہ ملک بھر میں بریگزٹ کے بارے میں لوگوں کے خیالات جانیں اور برطانیہ سے آزادی کی تحریک شروع کردیں۔ گزشتہ 2سال سے بریگزیٹ سے متعلق غیر یقینی صورت حال نے ان کے خیالات کو مزید پختہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردست ہمارے توجہ آزادی کے مقدمے کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے، تاہم علاحدگی کا ریفرنڈم کرانے سے متعلق کوئی حتمی تاریخی نہیں دے سکتے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے گزشتہ ہفتے اسکاٹ لینڈ کی وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر گفتگو میں یورپی یونین سے برطانوی علاحدگی سے متعلق معاملات پر بات چیت بھی کی تھی۔ دوسری جانب یورپی یونین کی پولیس ایجنسی یورو پول نے تعاون بڑھانے کے لیے 31 یورپی ریاستوں کے ساتھ ایک معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس موقع پر یورو پول کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین ڈی بولے کا کہنا تھا کہ دہشت گردانہ حملوں کے پیش نظر خصوصی دستوں کے مابین اضافی تعاون نا گزیر ہے۔ اس معاہدے پر بدھ کے روز آسٹریا کے وزیر داخلہ نے دستخط کیے۔ معاہدے میں یورپی یونین کے 28 ممالک کے علاوہ ناروے، آئس لینڈ اور سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہیں۔ رواں ہفتے پیر سے لے کر بدھ تک یورپ میں 30 مختلف ممالک کے خصوصی دستوں نے انسداد دہشت گردی کی وسیع تر مشقوں میں حصہ لیا تھا۔ ان مشقوں کو اس طرز کی اب تک کی سب سے بڑی مشقیں قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مختلف گروپوں کا کہنا ہے کہ دولت مند افراد کو یورپی یونین کے ان ممالک کی طرف سے اپنے پاسپورٹ بیچنے اور رہایشی پرمٹ فراہم کرنے سے منی لانڈرگ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور کئی ممالک کی اسکیمیں اچھے طریقے سے نہیں چلائی جا رہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ