ترک میڈیا میں سعودی صحافی کے مبینہ اغواء کاروں کی وڈیو جاری 

106

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک میڈیا نے سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خاشق جی کے لاپتا ہونے کے حوالے سے سی سی ٹی وی فوٹیج ریلیز کر دی۔ اس وڈیو میں مبینہ سعودی انٹیلی جنس افسران کو استنبول ہوائی اڈے کے ذریعے ترکی میں داخل ہوتے اور روانہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جمال خاشق جی 2 اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے اور اس کے بعد انہیں کہیں نہیں دیکھا گیا۔ترک حکام کا خیال ہے کہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے، جب کہ سعودی عرب اس الزام کی تردید کر چکا ہے۔ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ چینل پر نشر ہونے والی وڈیو بظاہر سیکورٹی کیمروں کی مدد سے بنائی گئی ہے۔ اس فوٹیج میں ان کالی وینز کو قونصل خانے کی جانب جاتے دیکھا جا سکتا ہے جو اس تفتیش میں مرکزی اہمیت رکھتی ہیں۔ وڈیو میں سعودی مردوں کا ایک گروہ ترکی میں داخل ہوتے، ہوٹل میں وقت گزارتے اور پھر ملک چھوڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔یہ گروہ ایک خصوصی سعودی طیارے سے ترکی آیا تھا۔ جمال خاشق جی قونصل خانے میں اپنی طلاق کے معاملات طے کرنے گئے تھے، تاکہ وہ اپنی ترک منگیتر سے شادی کر سکیں۔ وڈیو میں انہیں قونصل خانے میں داخل ہوتے دیکھا گیا اور ان کی منگیتر باہر انتظار کر رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے جمال خاشق جی کی پُر اسرار گمشدگی کے روز شبہے کی بنیاد پر ترک حکام نے سعودی عرب سے آئے اس نجی طیارے کی تلاشی بھی لی تھی، تاہم وہاں سے خاشق جی کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولیہ نے ترک پولیس کے ایک ذریعے سے بتایا کہ طیارے کی مکمل تلاشی لینے سے اس میں خاشق جی کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ