قرضوں سے نجات کا واحد راستہ سود کا خاتمہ اور اسلام کا معاشی نظام ہے،سراج الحق 

202
لاہور، امیر جماعت اسلامی سراج الحق منصورہ میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں،لیاقت بلوچ و دیگر بھی موجود ہیں
لاہور، امیر جماعت اسلامی سراج الحق منصورہ میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں،لیاقت بلوچ و دیگر بھی موجود ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ قرضوں سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے کہ اسلام کا معاشی نظام نافذ اور سود کا خاتمہ کیا جائے، عوام کی ترقی کی گاڑی نہ صرف اپنی جگہ رکی ہوئی ہے بلکہ ڈھلوان کی طرف تیزی سے جار ہی ہے ، خدانخواستہ کونسی ناگہانی ضرورت آن پڑی ہے جس نے حکومت کو اپنے تمام دعوے اور وعدے بھول کر آئی ایم ایف کے در پرحاضر ہونے کے لیے مجبور کردیاہے ، قوم پہلے ہی قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے، مزید قرض لیا گیا تو آنے والی نسلیں قرضوں کے بوجھ تلے مزید دب جائیں گی ، اس لیے حکومت کو اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث کر کے سیاسی جماعتوں اور قوم کو اعتماد میں لیناچاہیے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں برادر تنظیمات کے مرکزی ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ و دیگر ذمے داران بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عبوری حکومت نے بھی روپے کی قدر میں کمی کی تھی اور موجودہ حکومت نے روپے کو کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا بنا کر رکھ دیاہے ۔ اب توبنگلا دیشی ٹکا اور افغانی کرنسی بھی روپے کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت معاشی بحران قوم کی سمجھ سے بالاتر ہے اس لیے کہ کوئی بڑی مہم درپیش ہے نہ کوئی بڑا سانحہ ہواہے ۔ انہوں نے کہاکہ قرضوں سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے کہ اسلام کا معاشی نظام نافذ اور سود کا خاتمہ کیا جائے ۔ حکومت کے اپنے بیان کے مطابق 8 ارب ڈالر صرف سود کی قسط ادا کرنی ہے، مزید قرضے لینے سے سود کی قسط مزید بڑھے گی ۔ سود ادا کرنے کے لیے مزید قرض لیا جارہاہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عوام پر بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور بھاری ٹیکسوں کا بوجھ لاددیا گیاہے ۔ اخراجات کم کرنے کے بجائے ہر 4 دن بعد وزارتوں میں اضافہ کیا جارہاہے ۔ کیا ایک مقروض ملک ان عیاشیوں اور اللے تللوں کا متحمل ہوسکتاہے؟۔ مسائل کا حل ملک میں اسلامی انقلاب ہے ۔ حکومت اگر اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے انکار کردیتی اور صبر و استقامت سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتی تو اللہ تعالیٰ ا ن کے لیے کوئی عزت کا راستہ ضرور نکال دیتا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ نظام بھی ایک تسلسل ہے ، کسی واضح ہدف اور منصوبہ بندی کے بغیر حکومتی گاڑی اپنی جگہ پر ہی رکی ہوئی ہے ۔ عوام نے حکومت سے جو امیدیں باندھیں اور توقعات وابستہ کی تھیں وہ سراب نظر آنے لگی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر احتساب کے نظام کو شفاف انداز میں آگے بڑھایا اور بیرون ملک موجود دولت کو ملک میں لانے کے لیے ایک میکنزم قائم کردیا جائے تو عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکتاہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے برادر تنظیموں کے ذمے داران کو ہدایت کی کہ وہ عوام کی خدمت اور دعوت کے کام کو آگے بڑھائیں ۔ معاشرے میں یہ شعور عام کرنے کی کوشش کریں کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے بغیر ان کی پریشانیوں کا کوئی حل نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عام آدمی مشکلات سے دوچار ہے ۔ غربت مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں پریشان عوام مایوسی کا شکار ہیں ۔ خود کشی کی شرح میں اضافہ ہواہے ۔ لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ۔ حکومت نے ان مسائل کے حل کے لیے خود ہی 100 دن کا اعلان کیا تھا مگر 2 ماہ گزر نے کے بعدبھی حالات میں بہتری کے کوئی آثا ر نہیں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے وعدوں اور اعلانات کو عملی جامہ پہنائے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ