قرضے اتارنے کیلیے قرضے لینے پڑیں گے،عمران خان

200
اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں
اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قرضے اتارنے کے لیے قرضے لینے پڑیں گے‘ ملکی تاریخ کا سب سے بڑاخسارہ ہے‘ اداروں کو ٹھیک کررہے ہیں ، اصلاحات کے اثرات 6ماہ بعد سامنے آئیں گے۔وہ بدھ کو وزیراعظم آفس میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ، وزیر ہاؤسنگ پنجاب محمود الرشید، وفاقی کابینہ کے ارکان، ارکان پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کم آمدنی والے طبقے اور غریب عوام کو 50 لاکھ گھروں کی فراہمی کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے غریبوں کو چھت میسر آنے کے ساتھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور اقتصادی سرگرمی سے شرح نمو میں اضافہ ہو گا، اس ضمن میں ون ونڈو آپریشن کے لیے 90 روز میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس کی نگرانی وہ خود کریں گے، ابتدائی طور پر 7اضلاع میں پائلٹ پروجیکٹ آج سے شروع ہو گا، 60 دنوں میں رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو گا، کم آمدنی والے وفاقی ملازمین کے لیے بھی آج جمعرات سے ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا جا رہا ہے، کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیں گے، فنانسنگ سے متعلقہ رکاوٹیں دور کرنے کے لیے 60 روز میں نیشنل فنانشل ریگولیٹری ادارہ بھی قائم کیا جا رہا ہے، گھروں کے لیے اراضی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی کام نجی شعبہ انجام دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم الشان منصوبے سے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار میسر آئے گا، صنعت کا پہیہ چلے گا، اقتصادی سرگرمی زور پکڑے گی اور اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہو گا۔ ان کا کہنا تھاکہ نوجوان خود تعمیراتی کمپنیاں قائم کریں اور صنعت میں شامل ہوں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے ملک بھر میں سرکاری اراضی کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے لینڈ بینک قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ