شہباز شریف کی گرفتاری کیخلاف ن لیگ کا احتجاج ،اسپیکر نے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے 

55

لاہور/اسلام آباد(نمائندہ جسارت /خبر ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی کے باہر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف دھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا۔ مسلم لیگ(ن)کے ارکان پنجاب اسمبلی پارٹی کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پنجاب اسمبلی پہنچے تو اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی ہدایت کے بعد انتظامیہ نے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی کے مرکزی گیٹ کو خاردار تار لگا کر مکمل طور پر بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی۔ لیگی ارکان اسمبلی نے مل کر دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تاہم پولیس اہلکاروں نے ان کی کوشش ناکام بنادی۔ لیگی ارکان اسمبلی خاردار تار پھلانگ کر اور رکاوٹیں توڑتے ہوئے اسمبلی کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اسمبلی کے داخلی دروازے پر دھرنا دے کر احاطے میں ہی اپنی اسمبلی سجالی اور احتجاجی اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی زیر صدارت ہوا‘ اراکین اسمبلی نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ لیگی رہنماؤں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور شہباز شریف کی گرفتاری پر سخت احتجاج کیا۔ لیگی ارکان اسمبلی نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر’ انتقامی سیاست بند کرو‘ اور’شہباز شریف کو رہا کرو‘ کے نعرے درج تھے۔ خواجہ سعد رفیق نے احتجاجی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہموجودہ حکمرانوں کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں ‘یہ فسطائی حکمران ہیں‘ پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار اراکین اسمبلی پر دروازے بند کیے گئے ہیں‘ عمران خان اپوزیشن کے ساتھ گتھم گتھا ہونا چاہتے ہیں اور اسمبلی کے دروازے بند کرنا آمرانہ اقدام ہے۔ اس موقع پر پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان میں منتخب اراکین اسمبلی کی بات سننے کا حوصلہ نہیں ہے‘ پنجاب اسمبلی کو نہیں بلکہ جمہوری نظام پر تالا لگایا گیا ہے‘ نیب نے شہباز شریف کو صاف پانی منصوبے کے حوالے سے بلایا اور آشیانہ اسکیم میں دھر لیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ احتساب اپنے گھر سے شروع کریں اورعلیمہ خان کی آف شور کمپنیوں کا حساب دیں۔ ان کا سوال تھا کہ ضمنی الیکشن سے پہلے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو تبدیل کیا گیا تو کہیں اس کے پیچھے منشا بم تو نہیں ہے؟۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں صوبائی حکومت کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارکان پارلیمان کو روکنا حکومت کی گھبراہٹ اور غیر جمہوری رویے کا واضح ثبوت ہے۔ علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 17 اکتوبر کو اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے۔ مسلم لیگ (ن) نے شہبازشریف کی گرفتاری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ریکوزیشن جمع کرائی تھی اور اپوزیشن لیڈر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ قواعد کے تحت ریکوزیشن جمع ہونے کے بعد اسپیکر 14 دن کے اندر اندر اجلاس بلانے کا پابند ہوتا ہے۔ پروڈکشن آرڈر کی کاپی چیئرمین نیب، ڈی جی نیب لاہور، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور تمام متعلقہ حکام کو ارسال کردی گئی ہے۔ پروڈکشن آرڈر میں کہا گیاہے کہ اسپیکر ضروری سمجھتے ہیں کہ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کی شرکت ضرورت ہے لہٰذا ان کی حاضری یقینی بنائی جائے اور جب اجلاس ختم ہوجائے تو نیب انہیں دوبارہ تحویل میں لے سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ