ایندھن پر ٹیکسوں میں اضافے سے عوام پریشان ہیں،عدالت عظمیٰ

99

اسلام آباد(آن لائن)گیس، بجلی اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافی ٹیکس پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹیکسز بہت بڑھ گئے ہیں،مہنگائی میں اضافہ اور ڈالر کی قیمت اوپر جارہی ہے،قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام کو ملنا چاہیے۔علاوہ ازیں گزشتہ حکومت نے کیا کیا؟غلام سرور کو قیمتوں اور تعیناتی کا معاملہ دیکھنے کو کہا، سابقہ حکومت نے کون سی غیر قانونی تعیناتیاں کیں۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گزشتہ دور حکومت میں ایم ڈی 37 لاکھ روپے تنخواہ پر تعینات کیا گیا، تعیناتی بورڈ
نے نہیں وفاقی حکومت نے کی تھی،جنوری 2015 ء میں پی ایس او کے ایم ڈی کی تعیناتی کا اشتہار جاری ہوا، پہلا پراسیس حکومت نے بلاجواز ختم کردیا،حکومت نے تعیناتی کا دوبارہ حکم دیا،پہلے پراسیس میں ایم ڈی پی ایس او کا نام نہیں تھا، اپریل 2015 ء میں شروع کیے گئے پراسیس میں عمران الحق کا نام شامل تھا، اس وقت سیکرٹری ارشد مرزا اور وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی تھے، پی ایس او میں تعیناتیاں اقربا پروری پر ہوئیں، قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا،ایل این جی کی درآمد سے متعلق نیب انکوائری کر رہا ہے، پی ایس او کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قیمتوں کے تعین کے لیے پیپرا مددگار ہو سکتا ہے۔ پرا سیکیوٹر جنرل نیب کا کہنا تھا کہ نیب ایم ڈی کی تعیناتی پر تحقیقات کر رہا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب اتنا سست کیوں ہے؟4 ہفتے میں تعیناتی کی تحقیقات مکمل کریں،حکومت کو ایم ڈی کی تنخواہ اور مراعات کیساتھ 50لاکھ میں پڑتا ہے۔کیا یہ ملک 50 لاکھ تنخواہ کا ایم ڈی برداشت کر سکتا ہے؟ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4ہفتوں تک ملتوی کردی گئی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ