لیاری پیرنٹس اینڈ سوشل ورکرز ایکشن کمیٹی نے سرکاری اسکولز کو این جی اوز کے حوالے کرنے پر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کردیا

246

کراچی (پ ر) لیاری کے سرکاری اسکولز کو این جی اوز کے چنگل سے  بچانے کے لیے لیاری پیرنٹس اینڈ سوشل ورکرز ایکشن کمیٹی کا اہم اجلاس  کیا گیا۔ اجلاس میں مختلف اسکولوں کی اسکول منیجمنٹ کمیٹی کے چئیرمین اور ممبران نے شرکت کی جن میں چئیرمین ایس ایم سی سنگولین گرلز اسکول حبیب حسن، چئیرمین ڈی ایم سی اسکول بہارکالونی و ممبر گورنمنٹ گرلز سکینڈری اسکول بہارکالونی کیمپس سید جواد شعیب، چئیرمین میر ایوب گورنمنٹ گرلز اسکول کیمپس یاسین بلوچ، چئیرمین مظہر العلومگورنمنٹ گرلز سکینڈری اسکول کیمپس عبدالطیف ڈورائی، چئیرمین گورنمنٹ اسکول بہارکالونی کیمپس 1، چئیرمین گل محمد لین سندھی اسکول خان محمد اور ساجد بلوچ نے شرکت کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مظہر العلومگورنمنٹ گرلز سکینڈری اسکول کیمپس، گورنمنٹ گرلز سکینڈری اسکول بہارکالونی کیمپس، چئیرمین میر ایوب گورنمنٹ گرلز اسکول کیمپس کی چھ خواتین اساتذہ کا ڈی سی ٹی او اسکول، جو کرن فاؤنڈیشن گود لے چکی ہے، میں ٹرانسفر کیا گیا جس کو ہم مسترد کرتے ہیں۔

یہ تینوں لیاری کے وہ اسکول ہیں جہاں ساڑھے تین ہزار سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ڈی او ایجوکیشن نیلوفر  لیاری کے تین بڑے کیمپس متاثر کرکے این جی او کے تحت چلنے والے ڈی سی ٹی اواسکول کو بہترین اساتذہ فراہم کررہی ہے جو لیاری کیساتھ زیادتی ہے۔ متعلقہ اسکولوں کی اسکول منیجمنٹ کمیٹی کے چئیرمین نے جب ڈی او سے رابطہ کیا تو جواب ملا کہ این ٹی ایس اساتذہ کے لیے ان پر سیکریٹری تعلیم کا دباؤ ہے۔

واضح رہے کہ ڈی سی ٹی او اسکول میں پچاس اساتذہ پہلے موجود ہیں اور محض چار سو طلباء اور یہ بوائز اسکول ہے جبکہ گرلز اسکول سے خواتین اساتذہ کا ٹرانسفر کیا گیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ اسکولوں کی اسکول منیجمنٹ کمیٹی کے چئیرمین یقینی بنائیں کہ  ٹرانسفر کی گئے اساتذہ سے اپنے پرانے اسکولوں میں ڈیوٹی دیں اور ٹرانسفر کا غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کردیں۔

رولز کے مطابق این ٹی ایس ٹیچرز کی تقرری کنٹریکٹ پر یوسیز کے لئے مذکورہ اسکول میں کی گئی اور انکی حاضری تقرری اور سروس رکارڈ بائیو میٹرک سسٹم اسی اسکول میں جو منتقل نہیں ہوسکتا۔ لیاری کے سترہ بڑے اسکولز جنکا معیار تعلیم بہتر کرنے کے بجائے مزید تباہ کرکے کرن فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان اسکولوں میں گورنمنٹ گرلز سکینڈری اسکول غریب آباد، جینو بائی جی الانہ، میر ایوب، مظہر العلوم گورنمنٹ اسکول، ایس ایم لیاری، گورنمنٹ اسکول بہارکالونی، ولی محمد حاجی یعقوب، لیاری نمبر دو، گل محمد لین، کلاکوٹ گرلز اسکول، سنگولین گرلز اسکول سمیت دیگر شامل ہیں۔

لیاری پیرنٹس اینڈ سوشل ورکرز ایکشن کمیٹی نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر تعلیم سندھ سید سردارعلی شاہ سے اپیل کی ہے کہ فی الفور خواتین اساتذہ کا ٹرانسفر لیٹر منسوخ کیا جائے اور سیکریٹری تعلیم اور ڈی او ایجوکیشن نیلوفر کے خلاف لیاری دشمنی پر کارروائی کی جائے۔ اور ساتھ ہی لیاری کے اسکولوں کو بہتر بنایا جائے اور این جی اوز کے حوالے کرنے سے باز رہا جائےایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو سرکاری اسکولوں کو تباہ کرکے این جی اوز کو حوالے کرنے کی سازش میں ملوث ہیں۔ ٹرانسفر کئے گیے اساتذہ کا ٹرانسفر آرڈر واپس نہ لیا گیا تو ایکشن کمیٹی مزید سخت لائحہ عمل کااعلان کرےگی۔

لیاری پیرنٹس اینڈ سوشل ورکرز ایکشن کمیٹی نے لیاری کے تمام والدین سیاسی و سماجی کارکنوں اور اہلیان لیاری سے احتجاجی مظاہرے میں لیاری کے بچوں کے بہترین مستقبل کیلئے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.