گوگل کروم کے خودکار لاگ اِن فیچر سے صارفین کو خدشات

121

گوگل کے مقبول براؤزر کروم کے نئے ورژن 69میں شامل خودکار لاگ اِن فیچر سے صارفین کو اپنے ڈیٹا پرائیویسی کے حوالے سے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل یہ صارفین کے اپنے اختیار میں ہوتا تھا کہ وہ براؤزر پر لاگ اِن ہوتے ہیں یا نہیں، لیکن اب نئے ورژن میں صارفین جیسے ہی گوگل سرچ، جی میل یا یو ٹیوب پر لاگ اِن ہوں گے تو کروم بھی انہیں خودکار طور پر لاگ اِن کردے گا۔
صارفین اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں کہ اس نئے فیچر کو شامل ہی کیوں کیا گیا ہے، کیونکہ بہت سے صارفین کروم پر لاگ اِن ہونا پسند نہیں کرتے لیکن اب گوگل نے خود سے ہی انہیں لاگ اِن کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
کچھ سیکورٹی ماہرین کے مطابق کروم کے نئے ورژن سے گوگل صارفین کا ڈیٹا مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یعنی صارفین کا براؤزنگ ڈیٹا غیر محفوظ تصور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اگر کسی صارف کے جی میل اکاؤنٹ کے ساتھ دیگر اکاؤنٹس بھی مشترکہ ہیں تو گوگل اسے بھی ٹارگٹ اشتہارات کے لیے استعمال کرسکتا ہے جیسے گوگل میپ یا یوٹیوب وغیرہ۔
اس تبدیلی سے صارفین کو صرف یہ فائدہ ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے کمپیوٹر سے آن لائن ہیں، جس میں ان کا ڈیٹا نہیں ہے تو وہ صرف جی میل پر لاگ اِن ہونے سے اپنی براؤزنگ ہسٹری، محفوظ شدہ پاس ورڈ، بک مارکس اور دیگر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
گوگل کروم کی انجینئر اور منیجر ایڈرینی پورٹر فیلٹ نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں لاگ اِن عمل میں تبدیلی کی تصدیق کی اور واضح کیا کہ کسی بھی صارف کا ڈیٹا گوگل کو بھیجنا اُس وقت ممکن ہوگا جب وہ سنک (Sync) فیچر کو فعال کریں گے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر صارفین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ sync فیچر کو فعال کرنے کا انجام کیا ہوسکتا ہے اور وہ بس کلک کردیتے ہیں۔
یعنی اس طرح سے گوگل کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ صارف کی تمام براؤزنگ ہسٹری کو جمع کرسکتا ہے اور اسے کسی بھی قسم کے مقاصد کے لیے استعمال بھی کر سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ