کراچی بند گاہ کو سیاحت اور صنعت کیلیے پر کشش بنایا جائے گا، علی حیدر زیدی

106
وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز علی حیدر زیدی ورلڈ میری ٹائم ڈے کے حوالے سے منعقد ہ کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز علی حیدر زیدی ورلڈ میری ٹائم ڈے کے حوالے سے منعقد ہ کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز علی حیدر زیدی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا آخری آپشن تھا جو کہ انتہائی مجبوری میں کیا گیا ،پورٹ قاسم کی زمینوں پر قبضوں کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پورٹ قاسم کی زمینوں کی الاٹمنٹ کا ریکارڈ مانگاتو رات تین بجے تک ان کا فون بجتا رہا،ان کا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ کے اردگرد ٹریفک کے مسائل کی وجہ سے کراچی پورٹ کو مکمل صلاحیت پر آپریٹ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے،کراچی پورٹ نے 125 ملین ٹن کی گنجائش کے باوجود 50 ملین ٹن کارگو ہینڈل کیا،اگر کارگو ہینڈلنگ میں اضافہ کیا تو کراچی کے چوک ہونے کا خدشہ ہے،سندھ حکومت سے کراچی پورٹ سے نکلنے والے ٹریفک کو شہر سے نکالنے کے منصوبوں پر بات کروں گا،کراچی میں بندرگاہ سے متعلق جلد ایک بڑے منصوبہ کا آغاز ہوگا جب کہ کراچی پورٹ کو سیاحت اور صنعت کے لیے پرکشش بنایا جائے گا،دو مہینوں میں کراچی پورٹ پر عوامی تفریح کے مقامات کی تزئین مکمل کرلی جائے گی،وہ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے زیر اہتمام ورلڈ میری ٹائم ڈے کے حوالے سے منعقد ہ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز کا کہنا تھا کہ پی این ایس سی کے جہازوں کی تعداد قیام پاکستان کے وقت 70 تھی جو اب کم ہوکر 9 رہ گئی جس میں سے پانچ جہاز کرائے پر چل رہے ہیں،پاکستان نے بندرگاہوں پر تیل کے اخراج کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں،سمندر میں روانہ 13 ملین ٹن ٹھوس فضلہ اور 600 ملین گیلن آلودہ پانی گرایا جارہا ہے،صنعتوں کو ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا ہوں گے جبکہ ساحلوں کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے عوامی آگہی مہم چلائی جائے گی انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف مقدمات خود ان کے دور حکومت میں بنائے گئے اور نیب کی جانب سے انہی کیسز پر کارروائی ہورہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ