عام آدمی نہ کسی شمار میں نہ قطار میں

187

 

سید محمد اشتیاق

ایف ایس سی پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ کے نتائج کے اعلان کے بعد پیشہ ورانہ کالجز، انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹیوں میں انٹری ٹیسٹ کے لیے فارم جمع کروانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ کچھ تعلیمی ادارے اپنے ادارے کا کتابچہ اور داخلہ فارم مخصوص کوریئر سروسز کے ذریعے طلبہ کو فراہم کرتے ہیں اور داخلہ فارم، طالب علم کی تعلیمی اسناد بھی انہی کوریئر سروسز کے ذریعے وصولتے ہیں۔
آج اپنے چھوٹے بیٹے کے انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ میں داخلے کے سلسلے میں ایک تعلیمی ادارے جانا تھا۔ جب وہاں پہنچے اور کاؤنٹر پر موجود صاحب سے دریافت کیا کہ میرٹ لسٹ کب لگے گی؟ تو انہوں نے نہایت غور سے اور مشفقانہ انداز میں سوال سنا اور تسلی بخش جواب دیا۔ اپنا موبائل نمبر بھی دیا کہ اب دوبارہ آنے کی زحمت نہ کریں، مجھ سے معلومات کے حصول کے لیے بذریعہ فون رابطے میں رہیں۔ ان کے اس رویے سے دن کی شروعات بہت بھلی معلوم ہوئیں اور ہم خوشی خوشی ایک اور انجینئرنگ یونیورسٹی میں بیٹے کی تعلیمی اسناد جمع کروانے کے لیے کوریئر سروس کے دفتر کی طرف چل پڑے۔ ملیر کورٹ سے متصل کوریئر سروس کے دفتر میں تعلیمی اسناد جمع کروانی تھیں۔ بیٹا کاغذات لے کر دفتر میں چلا گیا اور ہم نے بیگم کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے رہنے کو ترجیح دی کہ چند منٹ ہی کی تو بات ہے۔ جب چند منٹ بیتنے کے بعد بھی بیٹے کی واپسی نہیں ہوئی تو ہم نے بھی کوریئر سروس کے دفتر کی طرف قدم بڑھائے۔ دفتر میں بے انتہا رش تھا اور ایک ہڑبونگ مچی ہوئی تھی۔ بمشکل دفتر میں داخل ہوئے تو منظر یہ تھا کہ کاؤنٹر پر عملے کا ایک ہی فرد موجود تھا اور کمپیوٹر بھی ایک ہی تھا۔ کاؤنٹر پر موجود نوجوان سرعت کے ساتھ کام کر رہا تھا اور جو فرد بھی اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا، نوجوان اس سے لفافہ لے کر کام میں مصروف ہوجاتا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر طلبہ و طالبات کی قطار بنوائی، تاکہ نوجوان کو کام کرنے میں سہولت ہو اور ہڑبونگ کا بھی خاتمہ ہو۔ قطار بنوانے کے بعد لفافے والی میز کے ساتھ لگ کر بیٹے کا نمبر آنے کے انتظار میں کھڑے ہوگئے۔ لفافے والی میز پر کئی ایسے لفافے نظر آئے، جن پر نام پتے لکھ کر طلبہ نے ضائع کر دیے تھے۔ غور کرنے پر پتا چلا کہ طلبہ جہاں تعلیمی ادارے کا نام پتا لکھنا ہے، وہاں پر اپنا نام پتا لکھ رہے تھے اور جہاں طالب علم کو اپنا نام پتا لکھنا تھا، وہاں تعلیمی ادارے کا نام پتا لکھنے کی غلطی کر رہے تھے۔ اس غلطی کی بنیادی وجہ ہڑبونگ اور مختصر سے دفتر میں طلبہ کا رش تھا۔ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود اس غلطی کا ارتکاب گھبراہٹ ہی میں ہوسکتا ہے۔
حالات کچھ پرسکون ہوئے تو دیکھا کالا کوٹ زیب تن کیے اور کالی ٹائی لٹکائے ایک دراز قد وکیل صاحب نے قطار سے ہٹ کر لفافے سمیت طلبہ کے سر پر سے فضا میں اپنا ہاتھ کاؤنٹر پر کھڑے نوجوان کی طرف بڑھایا۔ احتجاج لازم تھا، سو کیا لیکن وکیل صاحب نے کمال ڈھٹائی سے ہمارے احتجاج کو ان سنا کیا اور بدستور اپنا ہاتھ نوجوان کی طرف معلق رکھا۔ دوبارہ احتجاج پر بھی وکیل صاحب اسی رعونت اور ڈھٹائی کے ساتھ کھڑے رہے۔ مجبوراً نوجوان نے ان کو پہلے فارغ کر دیا۔ اور ہم جو خوش تھے کہ دن کی شروعات ایک خوشگور شخصیت سے ملاقات سے ہوئی ہے، اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ کیوں کہ وکیل صاحب سے مزید الجھنا اور بھڑنا، کم از کم ہمارے بس کی بات تو نہیں تھی۔ کیوں کہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اکثر ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں، جن میں کالے کوٹ والے دفاتر میں توڑ پھوڑ اور مار پیٹ کر رہے ہیں۔
کوریئر سروس کے دفتر میں تعلیمی اسناد جمع کروا کر نکلے اور گھر کی راہ لی۔ جب اپنی رہائشی کالونی میں داخل ہو کر حسب معمول بائیں ہاتھ مڑے تو راستہ بند ملا۔ نظر دوڑائی تو پتا چلا کہ ایک اور گیٹ کی تعمیر ہو رہی ہے۔ کیوں کہ اس راستے میں ہمارے ادارے کے چیئرمین کی رہائش گاہ بھی آتی ہے۔ راستے کی اس تبدیلی کو بھی تبدیلی والی حکومت کی برکات کا حصہ جانا اور یہ سوچتے ہوئے، گھر کی طرف گاڑی دوڑا دی کہ وطن عزیز میں عام آدمی نہ کسی شمار میں ہے اور نہ قطار میں۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ