صحافی کی گمشدگی، لوث ہونے پر سعودی عرب کو بھاری قیمت چکا نا ہوگی، امریکی سینیٹر

77
استنبول: 2011ء میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی یمنی کارکن توکل کرمان سعودی قونصل خانے کے باہر جمال خاشق جی سے اظہارِ یکجہتی کررہی ہیں
استنبول: 2011ء میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی یمنی کارکن توکل کرمان سعودی قونصل خانے کے باہر جمال خاشق جی سے اظہارِ یکجہتی کررہی ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لنڈسے گراہم نے سعودی نژاد امریکی شہری اور صحافی جمال خاشق جی کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اگر سعودی حکومت نے کوئی غلط کام کیا تو یہ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات کے لیے تباہ کن ہو گا، اور اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ باب کورکر نے کہا ہے کہ میں نے جمال کی گمشدگی کا معاملہ سعودی عرب کے سفیر کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہم مزید معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم کسی بھی ایسے ملک کو جواب دیں گے جو اپنے ملک سے باہر صحافیوں کو نشانہ بناتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کے روز سعودی حکومت کے ناقد صحافی کے اچانک غائب ہو جانے پر تشویش ظاہر کی۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ مجھے تشویش ہے۔ میں اس بارے میں سننا نہیں چاہتا۔ امید ہے وہ اس سے نکل آئیں گے۔ امریکا نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافی کی گمشدگی کی تحقیقات میں تعاون کرے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمال خاشق جی کی زندگی اور ان کی گمشدگی کے بارے میں گردش کرنے والی افواہوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام اس معاملے پر سعودی حکومت سے بات کر رہے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکا سعودی عرب کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جمال خاشق جی کی گمشدگی کی مکمل تحقیقات میں تعاون کرے۔ جب کہ برطانیہ نے بھی کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ترکی میں سعودی صحافی کے لاپتا ہونے کے واقعے کے حقائق جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ