وزیر اعظم کو 50 افراد گرفتار کرنے کی اتھارٹی کس نے دی، نواز شریف

78
اسلام آباد: ن لیگی کارکنان نواز شریف کی احتساب عدالت آمد پر پھول نچھاور کررہے ہیں
اسلام آباد: ن لیگی کارکنان نواز شریف کی احتساب عدالت آمد پر پھول نچھاور کررہے ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت/ خبر ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو 50 افراد گرفتار کرنے کی اتھارٹی کس نے دی‘ نیب سمیت مشرف دور کے تمام کالے قوانین ختم ہونے چاہییں‘ حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے‘ ایسے احتساب پر افسوس ہے‘ پختونخوا حکومت کے بلیک لسٹ کمپنی کو ٹھیکا دینے کی تحقیقات ہونی چاہیے‘ آمدن سے زاید اثاثوں کے الزام پر کوئی پاکستانی نہیں بچ سکتا۔ منگل کو احتساب عدالت میں میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ مشرف کے سیاہ قانون نیب کو ختم نہ کرنا غلطی تھی‘ ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو درگزر سے کام لینا ہو گا‘ہم نے اقتدار میں آکر نئی روایات قائم کیں‘ کسی کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا‘ شہباز شریف نے امانت دیانت سے کام کیا ان کی امانت و دیانت کی گواہی تو غیر ملکی ادارے بھی دیتے ہیں‘ پنجاب میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک انہوں نے بلاتخصیص عوام کی خدمت کی ہے‘ انہوں نے سخت محنت و جدوجہد کی اور اپنی بیماری کو بھی نہیں دیکھا ‘ انہیں عوام کی خدمت کرنے کا یہ صلہ دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ آمدنی اور اثاثے کا تقابل کرنا ہو یا اس پر احتساب کرنا ہو تو پھر 22 کروڑ آبادی میں سے کوئی نہیں بچے گا‘ مجھے افسوس ہے کہ ڈکٹیٹر کے ڈریکولا قانون کو ختم نہیں کر سکا ۔ محمد نواز شریف نے کہاکہ نیب کا سلمان شہباز کو بلانا اس سے بڑا کیا مذاق ہو گا‘ موجودہ حکومت کے کچھ لوگوں نے شہباز شریف پر الزام لگایا تاہم چینی حکومت کی وضاحت کے بعد ان کو منہ کی کھانا پڑی‘ جس کمپنی کو شہباز شریف نے ٹھیکا نہیں دیا کے پی حکومت نے دے دیا‘وزیر اعظم خود یہ بات کہہ رہے ہیں کہ 50 گرفتاریاں ہونی چاہییں‘ یہ گرفتاریاں ہوں گی تو ملک کیسے چلے گا انہیں اس طرح کی باتیں کرنے کی اتھارٹی کس نے دی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اب ہمیں درگزر سے کام لینا چاہیے‘ ہم نے بھی درگزر کرنے کی روایت قائم کی تھی‘ ہم نے اپنے دور میں کسی پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا‘ اب بھی اگر درگزر کریں گے تو نظام آگے چلے گا ورنہ ملک کو نقصان ہو گا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ پشاور میٹرو کے لیے بلیک لسٹڈ کمپنی کو ٹھیکا دیا گیا‘ کمپنی کو پنجاب میٹرو بس پروجیکٹ معاملہ پر بلیک لسٹ کیا گیا تھا‘ نیب کو تحقیقات کرنی چاہیے اور ایسے کاموں پر ریفرنس دائر ہونا چاہیے۔ نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عابد شیر علی کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے‘ ان کیجنازے میں شرکت کے لیے فیصل آباد جانا ہے انہیں اس کی اجازت دی جائے‘ عدالت نے نواز شریف کو جانے کی اجازت دے دی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ