راؤ انوارپھرروپوش‘پولیس نے عدالت میں رپورٹ جمع کرادی

110

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے سے متعلق ملزمان کے وکلا کو نقول فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت میں پولیس رپورٹ بھی جمع کرادی گئی جبکہ راؤ انوار نامعلوم مقام پرمنتقل ہوگئے ہیں۔2 رکنی بینچ کے روبرو کیس منتقل کرنے سے متعلق نقیب اللہ کے والد محمد خان کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان، راؤ انوار و دیگر ملزمانکے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس کی جانب سے ڈاکٹررضوان نے رپورٹ جمع کرائی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ راؤ انوار ملیر کینٹ سے کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے عدالتی نوٹس بھی وصول نہیں کررہے جبکہ ملزمان کے وکلا نے درخواست کی نقول فراہم کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ملزمان کے وکلا کو نقول فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کردی۔درخواست کے مطابق اے ٹی سی عدالت نمبر 2 نے جانبداری اور تعصب کا مظاہرہ کیا، انسداد دہشت گردی عدالت نے راؤ انوار و دیگر ملزمان کو غیر معمولی رعایتیں دیں۔ ہمارے اعتراض کے باوجود ملزمان کو ضمانتیں دی گئیں۔ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 2 سے دوسری عدالت منتقل کیا جائے۔ سماعت کے بعد پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی سیف الرحمن اور سماجی کارکن جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نقیب اللہ کا مسئلہ ہائی لائٹ ہونے کے بعد دہشت گردوں نے مرنا چھوڑ دیا ہے۔اداروں کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے۔ نقیب اللہ کے گھر والوں کو آرمی چیف وزیر اعظم اور اعلیٰ حکام نے انصاف کی فراہمی کا یقین دلایا تھا۔عدالت میں کہاگیاتھاکہ جیل میں راؤ انوار کی جان کو خطرہ ہے اور ملیر کینٹ میں محفوظ ہیں، اگر اب ملیر کینٹ میں بھی نہیں ہے تو اداروں کے لیے لمحہ فکرہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ