وفاقوں کو بورڈ کا درجہ دیا جائے،میٹرک تک مدرسہ و اسکول کے ایک نصاب کیلیے تیار ہیں،مجلس عمل مشاورتی کانفرنس 

172
اسلام آباد، متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان قومی مشاورتی کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں،سراج الحق ویگر رہنما بھی موجود ہیں
اسلام آباد، متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان قومی مشاورتی کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں،سراج الحق ویگر رہنما بھی موجود ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام قومی مشاورتی کانفرنس نے توہین رسالت کے قانون میں کسی قسم تبدیلی قبول نہ کرنے کا اعلان کردیا،کانفرنس کے شرکا نے مدارس سے متعلق اتحاد مدارس دینیہ کے 20 نکاتی مطالبات کی حمایت کا اعلان کردیاہے ،ایک ماہ تک انتظار کے بعد اپنا لائحہ عمل دینے کا فیصلہ،مقبوضہ کشمیر کے انتخابات، بھارتی دھمکیاں اورروس کے ساتھ 4 سو میزائل خریدنے کا معاہدہ مسترد ،کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین اور ان کی مکمل حمایت کا اعلان ،انتخابی دھاندلیوں سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے بجائے کمیشن بنانے اورٹی او آر طے کرنے کا مطالبہ ،میٹرک تک مدرسے اور اسکول کے یکساں نصاب کی ترویج مدارس کے وفاقوں کو بورڈ کا درجہ دینے سے مشروط کردیا گیا۔پیر کے روز اسلام آباد میں ایم ایم اے کے زیر اہتمام قومی مشاورتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ یہ اجلاس کسی کے خلاف نہیں ہو رہا کچھ اہم امور سب کی نظر میں ہیں ، کچھ چیزیں بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت ہوتی ہیں انگریز نے اسکول سرکار کے تابع بنائے نجی سطح پر مدارس بنے داڑھی پگڑی والوں کودہشت گرد بناکر پیش کیا جارہا ہے ،تقسیم ہند کے بارے میں ہمارے ریاستی اداروں نے انگریز کی پالیسی برقرار رکھی، ہمارے ریاستی اداروں نے تعلیمی تقسیم کو برقرار رکھا ،ایجنڈا قومی دھارا نہیں مدرسے کو پہلے دہشت گرد پھر بند کرنا ہے ۔پرویزمشرف ،پی پی پی، ن لیگ اور اب موجودہ حکومت مدارس کے حوالے سے ایک ہی پالیسی پر چلے ہیں، حکومت وقتی طورپر میٹھی میٹھی باتیں کرے گی مگر یہ سب وقتی ہوگا میں نے اتحاد تنظیمات کو روکا تھا کہ اس کانفرنس سے پہلے وزیر اعظم سے نہ ملیں علما کسی خوش فہمی میں نہ رہیں ورنہ مارے جائیں گے۔ ملک کوسیکولر بنایا جارہا ہے اس وقت آئین نشانے پر ہے ہم اس وقت اسلامی نہیں لبرل پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں ،اسلام سے متعلق قوانین ختم کیے بغیر غیر مؤثر کیے جارہے ہیں،موجودہ حکومت کے بعد قادیانی نیٹ ورک کیسے متحرک ہوگیا؟ چیئریٹی ایکٹ ہر حال میں مسترد کرتے ہیں مسلسل 1994ء سے مذاکرات سے مدارس کو نقصان ہی ہوا اب مذاکرات بند کردیے جائیں۔سینئر نائب صدر متحدہ مجلس عمل و امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ یکساں نظام و نصاب تعلیم میں عربی اور اردو کولازمی کیا جائے ،یکساں نظام تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے اردو قومی زبان ہے مگر عدالتی احکامات کے باوجود رائج نہیں کی جاسکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہم جنس پرستی کی کوئی تعلیم نہیں دی جارہی، اگر پی ٹی آئی حکومت میں شامل ہونے پر کوئی جرم ہمارے حصے میں آتا ہے اور اگر اس اصول کو تسلیم کریں تو مولانا فضل الرحمن اور پروفیسر ساجد میر بھی حکومتوں میں رہے کیا ان حکومتوں کے جرائم میں انہیں شریک سمجھیں۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے ماتھے پر کلمہ ضرور ہے مگر اس پر عمل نہیں ہورہا ہے اگلے سال لندن اور جنیوا میں ناموس رسالت جیورسٹ کانفرنس کریں گے۔خیبر پختونخوا میں70 فیصد تعلیمی مضامین اسلامی شعار کے عین مطابق ہیں، جو قوم قرضے لیتی ہے اسے دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ،جب عالمی ادارے قرض دیتے ہیں تو اپنے مطالبے بھی منواتے ہیں،نئی حکومت دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جارہی ہے ۔متحدہ مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ نے کہاکہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری اور مملکت خداد ادہے، اسلامی نظریہ اس کی بنیاد اور اسلامی قوانین اس کے محافظ ہیں، دینی بنیادوں پر تعلیم ہماری معاشرت ہے ،آج ان چیزوں کے لیے خطرات پیدا ہو گئے ہیں،کچھ بیرونی قوتیں حکمرانوں سے اپنی مرضی کرواتے ہیں۔ اتحاد تنظیمات المدارس پاکستان کے ترجمان مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہاکہ دینی مدارس عالمی استعمار کا ہدف ہیں ،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مدارس کے حوالے سے جو کچھ بھی ہورہا ہے اسے عالمی تناظر میں دیکھا جائے ،ایک طرف مدارس کی رجسٹریشن کی بات کی جاتی ہے دوسری طرف کی نہیں کی جاتی ،مدارس نہیں حکومت رجسٹریشن میں رکاوٹ ہے ،ہم رجسٹریشن کے حامی ہیں حکومت وزارت مذہبی امور کے تیار کردہ فارم کو خود مسترد کررہی ہے۔ ہر ایجنسی اپنا اپنا فارم لے کر مدارس پہنچ جاتی ہے فارم میں طالبات کے نام اور نمبرز پوچھے جاتے ہیں ،ہم اسکول کو مدرسہ جبکہ حکومت مدرسے کو اسکول بنانا چاہتی ہے ، مدارس سے ڈاکٹرز وکلا پیدا ہونے چاہئیں تو عصری تعلیمی اداروں سے علما کیوں پیدا نہیں ہوتے ؟۔ آغا خان بورڈ کی طرح مدارس کے وفاقوں کو بھی بورڈ کا درجہ دیا جائے میٹرک تک اسکول اور مدرسے کے ایک نظام اور نصاب کے لیے ہم تیار ہیں،وزیر اعظم نے میٹرک تک ایک نصاب پر اتفاق کیا ہے۔ مدارس کے ساتھ مذاکرات کے نام پر مذاق کیا جارہا ہے ہم نے حکومت کوبتادیا اب ہم مذاکرات کے نام پر مزید دھوکا برداشت نہیں کریں گے۔ مولانا اویس نورانی نے کہاکہ پاکستان کسی گولڈ سمتھ نے نہیں بنایا تھا تعلیمی نصاب میں فتنہ قادیانیت کے حوالے سے کوئی آگاہی نہیں ہے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرکے ملک کو خطرناک صورتحال سے دوچار کیا جارہا ہے، میڈیا پر سنسر ہے، ملک میں سول مارشل لا لگایا گیاہے۔ تحریک نوجوانان پاکستان کے سربراہ عبداللہ گل نے کہاکہ کشمیر کو آزاد ریاست بنانے کی سازش کی جارہی ہے کشمیر کو آزاد ریاست بنانے کا مقصد سی پیک کو سبوتاژ کرنا ہے ۔ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کلبھوشن یادیو کو پھانسی دی جائے ،مولانا فضل الرحمن کی زندگی کو شدید خطرہ ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ حکومت نے مدارس اور ختم نبوت کا مسئلہ چھیڑ کر اپنا تابوت بنانا شروع کر دیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ یہ حکومت کرتے رہیں مگر یہ قبرستان کی جانب جا رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ