جامعات ‘ انسداد دہشت گردی کی 9 چیئرز 5 سال بعد بھی غیر فعال

43

اسلام آباد (صباح نیوز) 5 سال گزرنے کے باوجود یونیورسٹوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے اسباق سے متعلق تما م9 سیرت چیئرز فعال نہ ہوسکیں‘5 سال گزرنے کے باوجود 9 سیرت چیئرز میں سے ایک پر بھی تعیناتی نہیں ہوئی‘ سیرت چیئرز پر تعیناتی کے لیے2
مرتبہ اشتہاردیے گئے‘ پہلی بار موزوں میدوار نہ ملے‘ دوسری مرتبہ47 امیدواروں کی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 24 امیدواروں کے انٹرویو لیے گئے جن میں سے 3 امیدواروں کو منتخب کیا گیا مگر وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر جوائننگ نہ دے سکے‘ منتخب ہونے والوں میں ڈاکٹر شاہدہ پروین، ڈاکٹر محمد الیاس اور ڈاکٹرمحمد اشرف شامل تھے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق 2014ء میں یونیورسٹیوں میں9 سیرت چیئرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم ان میں سے کسی ایک پر بھی تعیناتی کا عمل مکمل نہ ہو سکا۔ سیرت چیئر قائم کرنے کا فیصلہ 2014ء میں سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس کے لیے ابتدائی تخمینہ18 ارب 99 کروڑ80 ہزار روپے لگایا گیا تھا۔ سیرت چیئر کا مقصد جامعات میں بین المذاہب ہم آہنگی، شدت پسندی کا خاتمہ، سماجی انصاف، انسانی حقوق، صنفی تعلیمات و دیگر مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ پشاور یونیورسٹی میں صرف ایک چیئر پر اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز کو تعینات کیا گیا تھا مگر ان کو اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین بنائے جانے کے بعد یہ چیر 8 نومبر2017ء سے خالی ہوگئی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ