نجی اسپتال خود فیسیں کم کردیں ، چیف جسٹس کا غیر قانونی تعمیر گرانے کا انتباہ

61

لاہور (صباح نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور سمیت ملک بھر کے بڑے نجی اسپتالوں کو 15 روز کے اندر مریضوں کے علاج کے اخراجات پر نظرثانی کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اگر اسپتالوں نے ایسا نہ کیا تو وہ خود کوئی فیصلہ کریں گے۔ پرائیویٹ اسپتال علاج کی قیمتیں خود کم کر دیں۔ لوگوں کی خدمت نہیں کر سکتے تو اسپتال بند کر دیں۔ عدالتی حکم کے باوجود اضافی پیسے کیسے وصول کر سکتے ہیں۔ پی ایم ڈی سی کے منظور شدہ ریٹ سے زیادہ کوئی وصول نہیں کرے گا۔ کوئی عدالت پرائیویٹ اسپتالوں کے خلاف کارروائی میں مداخلت نہیں کرے گی جو اسپتال قانون کے خلاف بنے ہیں انہیں عدالت گرانے کا حکم دے گی جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ منافع کمانا نہیں ہونا چاہیے جبکہ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پرائیویٹ اسپتال صرف
امیروں کے لیے بنائے جاتے ہیں؟ اتوار کو چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے لاہور سمیت ملک بھر کے نجی اسپتالوں میں مہنگے علاج کے حوالے سے ازخودنوٹس کی سماعت عدالت عظمیٰ لاہور رجسٹری میں کی۔ تمام نجی اسپتالوں کے مالکان اور سی ای اوز عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا کہ بعض ایسے اسپتال بھی ہیں جنہوں نے ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے سرٹیفکیٹ نہیں لیا اور ایل ڈی اے کے قوانین کے خلاف تعمیر کیے گئے، عدالت نے اس امر کا بھی نوٹس لیا کہ ان اسپتالوں میں ایک دن کی لاکھوں روپے فیس وصول کی جاتی ہے۔ عدالت نے دوران سماعت حکم دیا کہ سیکرٹری ماحولیات تمام اسپتالوں کی خود چیکنگ کریں اور ایل ڈی اے سمیت تمام محکمے بلڈنگ کی منظوری سمیت تمام پہلوؤں سے اسپتالوں کی عمارتوں کو چیک کریں اگر کوئی بھی اسپتال کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کر کے بنایا گیا تو عدالت اسے گرانے کا حکم دے گی۔ دوران سماعت ایک نجی اسپتال کے مالک نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک سابق جج کے بھائی کا اسپتال جو لاہور کے ایک گندے نالے کے اوپر واقع ہے، کیا اس کو بھی گرانا پڑے گا۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ ہمیں یہ نہ بتائیں کہ کون چور ہے اور کون چور نہیں ہے جو بھی خلاف قانون بلڈنگ ہو گی ہمیں اسے گرانا پڑا تو گرائیں گے۔ عدالت نے کئی نجی اسپتالوں میں پارکنگ نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ایک، ایک دن کی ایک، ایک لاکھ روپے فیس وصول کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹرز اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر غضنفر علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کی خدمت نہیں کر سکتے تو اسپتال بند کر دیں،آپ مہنگا علاج کرتے ہیں۔ ایک مریض کا 30 دن کا بل آپ نے 40لاکھ روپے بنا دیا۔پی ایم ڈی سی نے علاج کے جو ریٹ طے کیے ہیں اس سے زیادہ کوئی وصول نہیں کرے گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں ورنہ عدالت فیصلہ کرے گی۔ غریبوں کو بھی اچھا علاج کرانے دیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.