وزارت اوورسیز نے وزیراعظم کو بریفنگ دینے کی سمری تیار کرلی

19

اسلام آباد(آن لائن)وزارت اوورسیز نے وزیراعظم کو وزارت اور ذیلی اداروں سے متعلق بریفنگ دینے کے لیے سمری تیار کرلی ہے ، او پی ایف ، ای او بی آئی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف سمیت او آئی سی نے کارکردگی رپورٹس تیار کرکے وزارت کو بھجوا دیں جبکہ اربوں روپے کے نقصانات ، سفارشی بھرتیاں ، ہاؤسنگ پروجیکٹس میں کرپشن ، جعلی ڈگری ہولڈرز ، نیب کیسز سمیت دیگر نکات رپورٹ سے حذف کرگئے۔او پی ایف نے گزشتہ ہفتے ہاؤسنگ پروجیکٹس سے متعلق اپنی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سب ٹھیک ہے کی
رپورٹ دی جبکہ ایجوکیشن ، ویلفیئر اور ایڈمنسٹریشن میں بھی بہترین کام ہونے کی رپورٹ تیار کی گئی جبکہ ہاؤسنگ پروجیکٹس میں زمین خریداری پر 17ارب روپے کی نہ صرف کرپشن ہوئی بلکہ پروجیکٹ کو20سال سے لیٹ کردیا گیا اور بدقسمتی سے اس پروجیکٹ میں پانی تک کی سہولت موجود نہیں ہے جبکہ دوسری جانب جعلی ڈگری ہولڈرز کی ادارہ میں نہ صرف ریل پیل ہے بلکہ اہم سیٹوں پر جعلی ڈگری ہولڈرز بھی تعینات کیے گئے ہیں ۔اس حوالے سے ایم ڈی نے جعلی ڈگری ہولڈرز سے متعدد بار اپنی ڈگریاں تصدیق کرانے کی ہدایت کی تھی تاہم بااثر ٹولے نے اس پر عمل نہ کیا ۔اعداد وشمار کے مطابق او پی ایف کے سکولز سمیت دیگر پروجیکٹس میں 275کے قریب جعلی ڈگری ہولڈرز افسران و اسٹاف تعینات ہے ۔2 ڈی جی ، ایک ڈائریکٹر ،ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر بھی جعلی ڈگری پر پنشن لینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور ادارہ انہیں بلیک میل کرکے غلط کاموں میں الجھائے ہوئے ہے ۔دوسری جانب ای او بی آئی نے بھی اپنی کارکردگی رپورٹ وزارت کو ارسال کرتے ہوئے سب اچھا کی رپورٹ دی ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ چیئرمین کی موجودگی میں بے پناہ کرپشن کے ثبوت سامنے ہیں اور آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے مذکورہ چیئرمین کی تعیناتی کو نہ صرف غیر قانونی قرار دیا تھا جب کہ انہیں فی الفور ہٹا کر ان سے ریکوری کرنے کے بھی احکامات جاری کیے تھے لیکن سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے قریبی دوست ہونے کے باعث انہیں عہدے سے نہ ہٹایا جاسکا۔ادھر او آئی سی نے او پی ایف کے موجودہ مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر شیخ ادارے کا اضافی چارج دیکھ رہے ہیں اور ان کے ڈائریکٹر جنرل حال ہی میں ڈپوٹیشن پر تعینات ای او بی آئی کی سب کمپنی پرائماکو میں اہم پوسٹ پر تھے اور لاکھوں روپے تنخواہ لے کر بیک وقت غیر قانونی طور پر 2 سیٹیں انجوائے کررہے تھے تاہم تینوں اداروں نے اپنی رپورٹس سے حقائق حذف کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت کو ارسال کردی ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.