پی ایس او میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا نیا اسکینڈل منظر عام پر آگیا

52

اسلام آباد (آن لائن) پی ایس او میں پیٹرولیم مصنوعات کی اسٹوریج کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن کا نیا اسکینڈل سامنے آگیا ہے۔ پی ایس او افسران نے اپنی مصنوعات کی اسٹوریج کا ٹھیکا پاکستانی ہاؤس انٹر نیشنل لمیٹڈ نامی کمپنی کو قواعد و ضوابط کے خلاف دے رکھا ہے اور سالانہ 8 کروڑ روپے بھی ادا کیے جا رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کمپنی کے مالک کا تعلق ایک سیاسی خاندان سے ہے جس نے سیاسی اثرو رسوخ پر یہ ٹھیکا حاصل کیا۔ پی ایس او کے ٹینڈر پر اس کمپنی نے 225 روپے فی میٹرک ٹن ریٹس کی بولی دی جو متعلقہ افسران نے بغیر تحقیقات کے منظور کرلی۔ ٹینڈر میں 55 ملین کا ٹھیکا ظاہر کیا گیا لیکن ادائیگی پہلی قسط کے طور پر 135ملین کیگئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او انتظامیہ نے پاور کمپنی ساؤورن الیکٹرک کمپنی سے فرنس آئل کی مد میں ساڑھے13 کروڑ روپے بھی وصول نہیں کرسکی۔ پی ایس او افسران کی ملی بھگت سے ریکوری کا یہ مقدمہ عدالت عالیہ سندھ میں کئی سال سے لٹکا ہوا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او انتظامیہ نے 2018 پٹرول پمپوں سے 53 کروڑ روپے کے بقایاجات وصول کرنے کے بجائے یہ ریکوری عدالت عالیہ اسلام آباد کے رحم و کرم پر چھوڑی رکھی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مشاورت کے نام پر وزارت پیٹرولیم کے ریٹائرڈ افسران نے بھاری تنخواہوں پر پی ایس او میں ملازمتیں حاصل کررکھی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ