گستاخی کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے

33

الحمدللہ گستاخانہ خاکوں پر موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ مسلمانان پاکستان کے جذبات و احساسات کا بروقت ادراک کیا۔ موثر سفارت کاری کی اور گستاخانہ خاکوں کی نمائش رکوانے میں اپنا حصہ ڈالا اور میں موقر روزنامہ کے توسط سے حکومت ہالینڈ خصوصاً پاکستان میں متعین عزت مآب سفیر صاحب ہالینڈ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مسلمانوں کے جذبات کا پاس رکھا جو وہ سیدنا محمدؐ کی ذات سے رکھتے ہیں۔ ہم مسلمان غیر مسلموں کی جانب سے سرکار دو عالمؐ کی ذات پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کو تو برداشت کرسکتے ہیں اور صدیوں سے آج تک علمائے حق اور غیرت مند مسلمان اُن کے شافی جوابات بھی دیتے چلے آئے ہیں لیکن غیر مسلم تو چھوڑیں کسی مسلمان کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ رسولؐ کی شان اقدس میں گستاخی کرے یا مذاق اُڑانے کی جسارت بھی کرسکے۔ یہ قانون صرف آپؐ کی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس قانون کے تحت تمام انبیا اور رسول کی حرمت، عزت و توقیر بعینہ اسی طرح واجب الاحترام ہے۔ مغرب اور امریکا میں مادرپدر آزاد معاشرے میں ایسا کوئی تصور نہیں ہے۔ عمران خان صاحب کا یہ کہنا بالکل بجا ہے، مغرب کو پتا ہی نہیں ہے کہ ’’دین‘‘ کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو پتا ہی نہیں تو وہ دین کے تقاضوں کو کیا سمجھیں گے؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب گستاخی کی حرکت جان بوجھ کر کرے، یا شرارتاً ایسا کریں تو عالم اسلام کا کیا رویہ ہونا چاہیے؟۔ گستاخی کی شرارتیں سب سے زیادہ مغرب میں ہوتی ہیں اور مغرب میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے۔ پہلا حق مغرب کے مسلمانوں کا بنتا ہے کہ وہ ان شرارتوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مغرب کے طرز معاشرت سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ انہیں وہاں کے قوانین سے بھی مکمل آگاہی ہوتی ہے، یقیناًوہ جتنی خوبصورتی سے گستاخی کے معاملات کو ہینڈل کرسکتے ہیں۔ ناموس رسالت کا معاملہ حساس معاملہ ہے اسے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی عدالت میں اٹھانے اور اشرافیہ میں بہتر اور مثبت انداز میں پیش کرسکیں۔ سلیم الفطرت مغربی لوگوں کی کمی نہیں ان کے سوالات اور خدشات کو دور کرنے والا ہونا چاہیے۔ فی زمانہ یہ کام ڈاکٹر ذاکر نائیک بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ آج سب سے زیادہ مطعون اُن کو مسلمان ہی کررہے ہیں ان للہ واناالیہ راجعون۔
صاحبزادہ محمد صدیق، فخر ماتری روڈ کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.