اسٹامپ آفس کی بلیک مارکیٹنگ

42

مجھے پچاس روپے والے اسٹیمپ پیپرز کی ضرورت پڑی، نادرا آفس میں ایک حلف نامہ جمع کروانا تھا، اسٹیمپ پیپر کے حصول کے لیے روبی سینٹر واقع تالپور روڈ پہنچا، یہاں پر کافی اسٹیمپ وینڈز موجود ہیں یہاں جب میں نے پچاس روپے والے پیپر کی قیمت پوچھی تو مجھے کسی نے 90 روپے اور کسی نے 100 روپے تک بتائی۔ میں نے پوچھا کہ پچاس روپے کے اسٹیمپ پیپرز کی قیمت زاید کیوں لے رہے ہو، تو مجھے بتایا کہ یہ پیپرز مارکیٹ میں ’’شارٹ‘‘ ہیں۔ ہم زاید قیمت دے کر یہ پیپرز لاتے ہیں۔ خیر مجھے ضرورت تھی میں یہ پیپر خرید کر بندروڈ پر واقع فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی تصدیق کے لیے سٹی کورٹ پہنچا۔ تصدیق کروانے کے بعد سٹی کورٹ میں واقع اسٹامپ آفس کی طرف چلا گیا، خیال یہ تھا کہ یہاں کے کچھ حال احوال کا جائزہ لیا جائے، شومئی قسمت اس آفس کے ایک اہلکار نے جو میرا سابقہ پڑوسی تھا مجھے دیکھ کر ملنے آیا، علیک سلیک کے بعد اس نے پوچھا کہ دہلوی بھائی! آپ یہاں کیسے؟ میں نے اسے آنے کی وجہ بتائی پھر میں نے اس سے براہ راست سوال کیا کہ بھائی پچاس روپے والا اسٹیمپ پیپر 90 روپے میں اور 100 روپے والا اسٹیمپ پیپر ایک سو نوے روپے میں کیوں فروخت ہوتا ہے۔ اس نے اسٹامپ آفس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ دہلوی بھائی یہ آفس مافیا کا گڑھ بن چکا ہے اور پیپرز کا لین دین ضرورت کے بجائے کاروبار بنادیا گیا ہے۔ اس جناتی اور بھوت بنگلا نظر آنے والی عمارت (اسٹامپ آفس) میں بلامبالغہ لاکھوں اور کروڑوں کا لین دین ہوتا ہے یہ آفس جب چاہتا ہے مارکیٹ میں اسٹیمپ پیپرز کی مصنوعی قلت پیدا کردیتا ہے اور پھر من مانی قیمت وصول کرتا ہے۔ اسٹمپ پیپرز کا ایک پیکٹ 5 سو پیپرز کا ہوتا ہے جسے آفس کا عملہ پانچ ہزار سے دس ہزار روپے زاید میں وہ بھی منظور نظر لوگوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ اس آفس کی آمدنی کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں روزانہ سیکڑوں نہیں ہزاروں اسٹیمپ پیپرز کے پیکٹ کا لین دین ہوتا ہے۔ میں ے پوچھا کہ اسٹامپ آفس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے؟ جواب ملا کہ بھائی اسٹامپ آفس مافیا بہت تگڑا ہے۔ تمام ججز، مجسٹریٹ، بار کونسل اور تمام وکلا برادری کو علم ہے۔ نیب، ایف بی آر، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت ستانی، صوبہ سندھ کو اچھی طرح علم ہے کہ اسٹامپ آفس میں کیا کیا گل کھلائے جارہے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ اس سوال کے جواب پر اسٹامپ آفس کا اہلکار سکوت اختیار کرگیا اور میں یہ سوچتا ہوا سٹی کورٹ سے باہر آگیا کہ عدلیہ کے ایک ادارے کی عین ناک کے نیچے اسٹیمپ پیپرز مافیا دھڑلے سے کام کررہا ہے، مجبور سائلین کی جیبوں پر کھلے عام ڈاکا مارا جارہا ہے، چور بازاری کی جارہی ہے، اس کو کون روکے گا؟ یہ سوال میں چیف جسٹس آف پاکستان کے ذمے چھوڑتا ہوں۔ سندھ حکومت کے کسی ذمے دار اہلکار اور اداروں سے مجھے کوئی خیر کی امید نہیں۔
شہزاد دہلوی، صالح محمد اسٹریٹ، کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ