احتساب میں تفریق کیوں؟

20

کرپشن ایسا ناسور ہے جو پورے ملک کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے ملک میں دائمی امن و استحکام قائم کرنے کے لیے بلاتفریق احتساب ضروری ہے۔ صد افسوس آج اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کے ساتھ ادنیٰ افسران بھی کرپشن میں ملوث ہیں۔ راؤ انوار جیسے پولیس افسر پر آمدنی سے زاید اثاثے، جائداد بنانے، بے گناہ لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے شواہد موجود ہونے کے باوجود ضمانت دینا، راؤ انوار اس کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کا سزا سے بچ جانا قانون کے اندھا ہونے کا ثبوت دینا ہے۔ احتساب بلاامتیاز عہدہ، شخصیت، عام و خاص دیکھے بغیر ہوگا تو ملک میں امن و استحکام ہوگا، ملک کی بقا کرپشن فری پاکستان میں ہے۔
صائمہ وحید، کراچی
قرآن کی تعلیم قابل ستائش ہے
ایک قول ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تم کو چین جانا پڑے۔ بچے قوم کا سرمایہ ہیں، آج علم حاصل کرنا غریب کے لیے مشکل ہوگیا ہے۔ تعلیمی اصلاحات کے بارے میں جو حکومت نے اعلان کیا ہے خوش آئند ہے، خاص کر پہلی جماعت سے میٹرک تک قرآن کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں جو بھی کوشش ہوگی وہ قابل ستائش ہوگی، خاص کر فہم قرآن پر بھی توجہ دی جائے تا کہ باشعور نسل سامنے آئے، انہی چیزوں کی کمی کی وجہ سے گزشتہ دنوں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ساٹھ ہزار لوگ بغیر کسی جنگ کے قتل ہوگئے۔ اس لیے تعلیم کو اجاگر کرنا حکمرانوں کی اہم ذمے داری ہے تا کہ علم کے ذریعے نفرتوں کو ختم کیا جائے اور محبت اور اخلاقیات کو بلند کیا جائے۔ سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے تا کہ غریب جدید تعلیم حاصل کرسکے۔
عشرت جہاں صدیقی، ناظم آباد 2نمبر
کابینہ کے فیصلوں کی توثیق ضروری ہے
پاکستان کے کروڑوں ووٹرز نے 25 جولائی 2018ء کو عمران خان کے نئے پاکستان اور تبدیلی کے وژن کی توثیق کردی ہے اور ان کو پانچ سال حکمرانی کا اختیار دے دیا ہے۔ وزیراعظم نے ووٹ دینے والوں سے اظہار تشکر کیا ہے، اب وہ یہ کام بھی کرلیں کہ جن لوگوں نے ان کو ووٹ نہیں دیے ان کو بھی یاد دہانی کرادیں کہ وہ ان کے بھی وزیراعظم ہیں اور ان کے مسائل میں بھی اتنی ہی دلچسپی لیں گے کہ وہ جتنا اپنے ووٹرز کے مسائل کو حل کرنے میں لیں گے۔ فدوی کی گزارش ہے کہ کابینہ کے تمام اجلاسوں کی کابینہ ڈویژن کے سیکرٹری سے منٹس تیار کرائیں اور وزیراعظم اس کی منظوری دیں اور پھر اس پر کام شروع کرائیں اور آئندہ اجلاس میں کاموں کے مکمل ہونے کی توثیق تمام وزرا سے کرائیں جس ڈویژن اور وزارت کا کام مکمل نہ ہو اس کو کام مکمل کرنے کی Directives جاری کیے جائیں اور آئندہ سستی کا ارتکاب نہ کرنے کی ہدایت جاری کی جائیں۔ کابینہ کمیٹی کا ایجنڈا اتنا ہی تیار کیا جائے جو کابینہ کے اجلاس کے وقفے کے دوران مکمل کیا جاسکے وزیراعظم تمام سرکاری، نیم سرکاری اہلکاروں کو اپنے اپنے دفاتر میں پہنچنے اور ہر روز ڈیوٹی لسٹ کے حساب سے کام مکمل کرنے کا پابند کرائیں اور آمد و روانگی میں وقت کا پابند رہنے کا عمل بھی چیک کریں۔ آمدن سے زیادہ اخراجات پر توجہ کی ضرورت ہے۔
صغیر علی صدیقی
موٹر سائیکلوں کے لیے ٹریفک اصول نہیں
گزشتہ دنوں شادی میں جانا ہوا، راستے میں ریلوے پھاٹک پڑا جو بند تھا، دور سے ٹرین آتی نظر آرہی تھی اور موٹر سائیکل سوار پھاٹک کے کنارے سے جارہے تھے میں اور بچے رکشے میں سوار سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ بالکل ٹرین صاف نظر آنے لگی تب بھی کئی سوار اڑاتے ہوئے نکلے جیسے پہیے نہ ہوں جہاز کے پر ہوں۔ کراچی میں سفر کے دوران اکثر لوگ ٹریفک کے قانون کو توڑتے نظر آتے ہیں بلکہ سارے شہری ہی ٹریفک قانون سے لاعلم لگتے ہیں۔ خصوصاً موٹر سائیکل چلانے والے کو نہ تو اپنی جان کی فکر ہوتی ہے نہ دوسروں کی، اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آجائے تب وقت پر نہیں جاسکیں گے اور تو اور مہینہ دو مہینہ کام سرانجام نہیں دے سکتے۔ اگر راستے میں دیر ہو جاتی ہے تو کچھ وقت پہلے نکل سکتے ہیں، کچھ تاخیر سے پہنچ سکتے ہیں، بہ نسبت اس کے کہ کوئی دشواری یا حادثہ پیش آئے جان ہے تو جہان ہے۔ حکومت سے ہمدردانہ درخواست ہے کہ ٹریفک کے اصولوں پر سختی سے عمل کروایا جائے، موٹر سائیکل سوار جو ادھر ادھر سے راستہ نکالتے نظر آتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور عوام میں شعور دیا جائے، ٹریفک کے اصولوں پر پابندی کرنے سے ہماری عافیت ہے بلکہ دوسروں کی بھی عافیت ہے۔
سائرہ بانو، ضلع بن قاسم، کورنگی شرقی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.