انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کیلیے پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے

20

پشاور (آئی این پی )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے دھاندلی کے خلاف اپوزیشن کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے ،2018کے انتخابی عمل پر ہمارے تحفظات تاحال برقرار ہیں اور ان تحفظات کو دور کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ، میاں افتخار حسین یا کسی اور ساتھی کو نقصان پہنچا تو ہماری دعویداری حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف ہوگی۔ضمنی الیکشن میں جنات آ گئے تو نتائج حالیہ انتخابات سے مختلف نہیں ہو نگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور دیگر قائدین بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ الیکشن میں جو کچھ بھی ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر بیلٹ بکس کھولے گئے اور نتائج تبدیل کئے گئے ، مینڈیٹ چور کیا گیا جو لوگ رات کو اپنے حلقے میں جیت چکے تھے ،اندھیرے میں انہیں ہرا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا مطالبہ ملک میں جمہوریت کی بقا کیلئے ہے اور وزیر اعظم نے اپنی پہلی تقریر میں اس بات کا اعتراف کیا تھا لہٰذا تمام دھاندلی کے خلاف تمام جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل پارلیمانی کمیشن تشکیل دے کر انتخابی عمل میں شریک پولنگ ایجنٹس اور انتخابی عملہ سمیت پولیس اور فوجی اہلکاروں تک تحقیقات کرائی جائیں، آئندہ ماہ ہونے والے ضمنی الیکشن کے حوالے سے بھی سوالیہ نشان موجود ہے اور اگر وہی طریقہ کار اپنایا گیا تو نتائج بھی مختلف نہیں ہونگے جس سے ملک کی سیاست میں موجود تلخی اور بے چینی میں مزید اضافہ ہو گا،کالاباغ ڈیم کے حوالے سے چیف جسٹس کے بیان پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تین صوبے کالاباغ ڈیم کو مسترد کر چکے ہیں ہم ڈیموں کے خلاف نہیں بلکہ اپنی تباہی کے خلاف ہیں تاہم متنازعہ معاملات کو چھیڑنے سے گریز کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی ہمیشہ سے دہشت گردوں کے نشانے پر رہی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سینکڑوں قائدین ، منتخب نمائندوں اور کارکنوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ،انہوں نے کہا کہ میاں افتخار حسین نے جب تک دہشت گردی کے خلاف موقف پیش کیا انہیں دھمکیاں ملتی رہیں لیکن ناقابل فہم بات یہ ہے کہ آج جب وہ دھاندلی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں تھریٹ الرٹس کیوں جاری کئے جا رہے ہیں ، دہشت گردوں کا دھاندلی سے کیا کنکشن ہے ؟انہوں نے کہا کہ حکومت کو حملہ آوروں کے علاقے ان کے حلیے اور نام تک پتہ ہو تا ہے تو انہیں روکا کیوں نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ، حکومت صرف تھریٹ الرٹ جاری کر کے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میاں افتخار حسین یا اے این پی کے کسی ساتھی کو نقصان پہنچا تو ہماری دعویداری حکومت اور ریاستی اداروں پر ہو گی، انہوں نے کہا کہ ہارون بلور شہید اور ابرار خیل شہید کے قتل کے حوالے سے ہمیں آج تک حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا ،جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حکومت نے پاکستان کی بقا کی جنگ لڑنے والوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نئے قومی مالیاتی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جس کی ہم بھرپور مخالفت کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.