رے فارما کے مزدور مسائل کب حل ہوں گے

71

رے فارما ایمپلائز یونین کے صدر نادر خان نیازی اور جنرل سیکرٹری نور الدین نے وزیراعلیٰ سندھ اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے خلاف فوری تحقیقات کریں کیونکہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی ملی بھگت سے کمپنی کی انتظامیہ قوانین کی دھجیاں اُڑا رہی ہے اور لاقانونیت کا بازار گرم کر رکھا ہے جس سے مزدوروں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انتظامیہ کے خلاف خود ڈائریکٹر لیبر سندھ نے فزیکل انسپکشن کا حکم دے کر اس کی رپورٹ دینے کا حکم دیا تھا اور اس مقصد کے لیے سید عبدالوہاب شاہ نے فزیکل انسپکشن کیا لیکن اس کی کوئی رپورٹ نہیں بنائی اور کمپنی کی انتظامیہ سے مل کر ان کو پاکٹ یونین بنانے اور مزدوروں کی نمائندہ یونین سے جان چھڑانے کا مشورہ دیا۔ کمپنی کے ساتھ چارٹر آف ڈیمانڈ زیر التوا ہے اور اس کی مصالحت کنندہ بھی مذکورہ سید عبدالوہاب شاہ ہیں جو کہ مختلف حیلوں بہانوں سے مشترکہ میٹنگ کو طوالت دیتے ہیں اور اسی دوران انتظامیہ کو مزدوروں اور خصوصاً خواتین مزدوروں کو ہراساں کرنے، ان پر جسمانی تشدد کرنے اور ڈرا دھمکا کر نمائندہ یونین سے دستبردار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ نمائندہ یونین نے مذکورہ مصالحت کنندہ سے کئی مرتبہ درخواست کی کہ گزشتہ پانچ سے دس سے زائد مشترکہ میٹنگوں میں کسی بھی میٹنگ میں انتظامیہ نے شرکت نہیں کی لہٰذا ان کو مصالحت ناکام ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے لیکن انہوں نے ناکامی کا سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کیا تا کہ اس طرح یونین کو دوسرے قانونی فورم پر جانے کا موقع نہ ملے اور مالکان اپنی غنڈہ گردی سے مزدوروں کو یونین کی حمایت سے دستبردار کروائے۔ یونین نے اس صورت حال میں ڈائریکٹر لیبر سندھ کو شکایت کی لیکن انہوں نے اس صورت حال کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور محض یونین کو مصالحت ناکامی کا بیان دیا۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ اور حکومت سندھ سے فوری اپیل ہے کہ ان واقعات کا سختی سے نوٹس لیں اور مذکورہ کرپٹ افسران کے خلاف تحقیقات کرکے ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں اور مزدوروں کو خصوصاً خواتین مزدوروں کو ذہنی و جسمانی تشدد سے نجات دلائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ