بے رحم احتساب ہی سیسی کو کرپشن سے پاک کرے گا

25

سندھ لیبر فیڈریشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ بے رحم احتساب ہی سیسی کو نہ صرف زندہ رکھ سکتا ہے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کرپشن سے پاک بھی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیسی آج جس تباہی کی منزل پر پہنچ گیا ہے سیسی کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچا تھا مزدوروں کی کنٹری بیوشن پر قائم ہونے والا یہ ادارہ سب سے زیادہ ظلم وستم مزدوروں پر ہی کررہا ہے سیسی کے کسی بھی ہسپتال،سرکل،ڈسپنسری میں نہ معیاری دوائیاں دی جاتی ہیں اور نہ ہی مزدوروں کا صحیح علاج کیاجاتاہے سیسی کے ہسپتالوں سے بہتر علاج تو شہروں کے خیراتی ہسپتالوں میں کیاجاتاہے مزدوروں کی کنٹری بیوشن کی مد میں اربوں روپے کی رقم مزدوروں کی فلاح وبہبود پر خرچ ہونے کے بجائے سیسی کے کرپٹ افسران وڈاکٹرز اپنی اور اور اپنے اہل وعیال کی فلاح پر خرچ کررہے ہیں شروع میں موجودہ کمشنر سیسی سے کچھ اچھی امیدیں وابستہ ہوئی تھیں مگر سب کی سب خاک میں مل گئیں اب کمشنر کو سیسی اور سیسی کو کمشنرزیادہ اچھے لگنا شروع ہوگئے ہیں۔ سندھ لیبر فیڈریشن عنقریب مزدوروں کی کنٹری بیوشن سے حال ہی میں ہونے والے فنڈز سے خریدی گئی میڈیسن اور میڈیکل مشینری کے بارے میں اپنی جامع رپورٹ وزیراعظم، چیئرمین نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو ارسال کررہاہے تاکہ انہیں بھی علم ہوسکے کہ سیسی میں کیا گل کھلائے جارہے ہیں اور مزدوروں کے
علاج ومعالجے کے لیے کن مشینوں کااستعمال ہو رہاہے جو نئے پاکستان میں سندھ لیبر فیڈریشن کاتاریخی کارنامہ ہوگا۔ اس سے پہلے بھی سندھ لیبر فیڈریشن کے دو کیسز نیب اوراینٹی کرپشن میں زیر سماعت اور زیرانکوائری ہیں اور اب میڈیکل کی مشینری کا سب سے بڑا کیس ثابت ہوگا۔ ترجمان نے سیسی کی SOS تنظیم کو یقین دہائی کرائی ہے کہ اگر واقعی SOS بھی سیسی سے کرپشن کاخاتمہ چاہتی ہے تو سندھ لیبر فیڈریشن SOS کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ دونوں کے تعاون سے سیسی کرپشن اور کرپٹ افسران وڈاکٹرز سے پاک ہوسکے اگر کرپشن کے خاتمے کے لیے فوری کارروائی نہ کی گئی تو موجودہ کمشنر ہی کی موجودگی میں ہوسکتا ہے کہ سیسی کے دفاتر پر تالے ڈال دیے جائیں۔ کیونکہ لوٹ ماراس قدر آسمان پر پہنچ گئی ہے کہ جس کا واپس آنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔ جس ادارے میں 70 سے 80 فیصد کرپشن کی نذر کیا جارہا ہو تو وہ ادارہ کس طرح زندہ رہ سکتا ہے میڈیکل میں تو کرپشن معمول بن چکی ہے مگر مزدوروں کا کنٹری بیوشن اکھٹا کرنے والے ڈائریکٹریٹس بھی کسی سے پیچھے نہیں ڈائریکٹریٹس میں تو کرپشن کی70/80 فیصد رقم اوپر والوں کو دی جارہی ہے جب اتنی بڑی رقم اوپروالوں کو دی جانے لگے تو یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے کہ ڈائریکٹریٹس کے افسران واسٹاف آسمان سے اترے اور دودھ کے دھلے ہوں، یہ ممکن ہی نہیں ہوسکتا ڈائریکٹریٹس میں تو لاکھوں روپے اوپر سے برستے ہیں آڈٹ کا سیزن ڈائریکٹریٹس کے لیے سنہراسیزن ثابت ہوتا ہے جس سیزن میں لکھ پتی کروڑ پتی اور پیدل سفر کرنے والے لکھ پتی بن جاتے ہیں۔ سیسی کے ڈائریکٹریٹس کا کوئی بھی افسر قیمتی گاڑیاں رکھے بغیر اپنی زندگی نہیں گزاررہا۔ایک ایک افسر کے پاس کئی کئی گاڑیاں زیراستعمال رہتی ہیں اور یہ سب مظلوم مزدوروں کی حق وحلال کی کمائی سے حاصل ہونے والا کنٹری بیوشن فنڈز جو سیسی میں امانت کے طور پر جمع ہوتاہے اس امانت میں سب ہی نقب لگارہے ہیں جو مزدوروں کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کے بھی مجرم بنے ہوئے ہیں جن کی سزائیں بھی اللہ نے تجویز کرنی ہیں اور جس کی سزا اللہ تجویز کردے تو وہ شخص برباد نہیں ہوگا تو کیا ہوگا،اس کا گھرانہ کیا آباد رہ سکے گا یہ نظام قدرت ہے جو کرپٹ افسران سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، کیونکہ سیسی امانت میں خیانت کرنے کا ایسا منحوس ادارہ بن چکا ہے جس میں مزدوروں کا گلا کاٹ کر وہ خون کرپٹ افسران اپنے زخموں پر لگارہے ہیں اور ایک وقت آئے گا کہ یہی کرپٹ افسران اپنا خون کاٹ کر اپنی اولاد اور اپنے اہل وعیال پر لگائیں گے۔
ورکشاپس کو مٹیریل فراہم کروائیں
ریلوے وزیر ریلوے کی ورکشاپس کو مٹیریل مہیا کرکے ریلوے کی ضرویات کا سامان ان ورکشاپس میں تیار کروائیں۔ ان خیالات کا اظہار ریلوے ورکرز یونین جمہوری گروپ ورکشاپس کے جنرل سیکرٹری فضل واحدنے یونین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا پاکستان ریلوے کی ورکشاپس میں نہ توہنر مند کاریگروں کی کوئی کمی ہے اور نہ ہی مشینری کی، لیکن ایک لمبے عرصہ سے ریلوے انتظامیہ نے ریلوے ورکشاپس کو نظر انداز کرتے ہوئے ریلوے کی ضرویات کا سامان مہنگے داموں اوپن مارکیٹ سے خریدنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جس سے ریلوے کے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے۔
کوہ نور، اسلم پینٹر سے تعزیت
کوہ نور سوپ کے مزدور رہنما اسلم پینٹر کے والد کا گزشتہ دنوں رضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا۔ اس موقع پر کوہ نور سوپ کے رہنما اسرار احمد، محمد رشاد اور دیگر نے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی ہے۔
پیکسار‘ عدیل حسین سے تعزیت
پیکسار کے محنت کش عدیل حسین کے والد کا رضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا۔ اس موقع پر پیکسار کے مزدور رہنما کامران علی لیمہ، فرقان احمد انصاری، شاہ رخ خان اور دیگر نے دعائے مغفرت کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.