اداراہ ترقیات حیدرآباد کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے 

28

محمد احسن
شیخ

محترم سربراہ واٹر کمیشن جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم صاحب سے اپیل ہے کہ حیدرآباد میں موجود ادارہ ترقیات حیدرآباد جو کہ نہ صرف عوام کو سہولیات دینے کے بجائے اذیت میں مبتلا کر رہا ہے بار بار شکایت کے باوجود اور آپ کی کاوشوں کے باوجود غیر فلٹر شدہ پانی سپلائی کیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے حیدرآباد کی عوام بیماری میں مبتلا ہیں۔ جس کی بڑی وجہ حیدرآباد میں بدبودار پانی سپلائی ہونے کی وجہ سے استعمال کیا جا رہا ہے اور HDA کے افسران اپنی سیٹوں پر موجود نہیں ہوتے جس کی وجہ سے حیدرآباد کی عوام آفسوں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک جاتی ہے لیکن آپ کی کاوشوں کو دیکھتے ہوئے کچھ لکھنے کی جسارت کی ہے کہ جناب اعلیٰ حیدرآباد XEN لطیف آباد سیوریج اپنے آفس میں موجود نہیں ہوتے اور شام دیر سے آفس میں آتے ہیں اور اپنے کام کرتے ہیں جب کہ XEN لطیف آباد سیوریج نے کئی ریٹائرڈ ملازمین کو ذمہ داریاں دی ہوئی ہیں جس میں ہماری معلومات کے مطابق سر فہرست کرسچن بگا نامی شخص ہے جو کہ اس پورے سسٹم کو دیکھتا ہے جناب اس شخص کے اتنے نخرے ہیں کہ وہ ہماری کمپلین تک نہیں سنتا ہے اور رشوت طلب کرتا ہے اگر کوئی رشوت نہیں دیتا تو اس علاقے میں گڑ لائنیں نہیں کھولی جاتی جس کی وجہ سے لطیف آباد کی عوام پریشانی میں مبتلا ہے بار بار تحریری شکایت کے بعد XEN لطیف آباد سیوریج نے کوئی عمل درآمد نہیں کرایا ایسا لگتا ہے کہ یہ تمام افسروں نے مل کر لوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے اور اس ادارے کو تباہ حال کر رکھا ہے ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جب آپ کا وزٹ ہوتا ہے تو یہ تمام افسران روڈ پر دوڑے لگاتے ہیں اور راتوں رات صفائی کروالیتے ہیں مگر جناب آپ کے وزٹ کے بعد حیدرآباد کی عوام پھر اسی عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہے جناب سے التماس ہے کہ اس تمام صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس سے وابستہ افسران کو نوکری سے ڈسمس کیا جائے اور کسی اچھے ایماندار افسران کو تعینات کیا جائے جناب کے لیے حیدرآباد کی عوام دعاگو رہے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.