مزدور رہنما عثمان غنی شہید

95

تحریر: حبیب الدین جنیدی

ملک میں کئی دہائیوں کے سیاسی عدم استحکام نے جہاں ایک جانب صنعتی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا تو دوسری جانب اس کے منفی اثرات ٹریڈ یونینز اورمزدور تحریک پر بھی مرتب ہوئے۔اب سے بیس پچیس سال قبل پاکستان کے نیشنلائزڈ کمرشل بنکس میں ورکرز کیڈر سے تعلق رکھنے والے کارکنان کی تعداد ادارہ کی کُل افرادی قوت کا تقریباً 70فیصد ہوتی تھی جسے پرائیویٹائزیشن کے بعد ڈاؤن سائزنگ،چھانٹیوں اور ٹریڈ یونین کیڈر میں گذشتہ پچیس سالوں سے بھرتیوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد کرکے اب دس فیصد سے بھی کم تک محدود کردیا گیا ہے۔پرائیویٹائزیشن سے قبل کمرشل بنکس میں منظم اور مضبوط ٹریڈ یونینز کا نیٹ ورک ملک گیر سطح پر موجود تھا۔انہی ٹریڈ یونینز میں سے ایک مسلم کمرشل بنک اسٹاف یونین آف پاکستان سی بی اے ایک انتہائی متحرک یونین کے طور پر موجود تھی۔پاکستانی بنکس کی ٹریڈ یونینز نے ملک کو کئی نامور ٹریڈ یونین رہنما دیئے جن میں ایک سر فہرست نام شہید عثمان غنی کا بھی ہے۔عثمان غنی نہ صرف یہ کہ ایک بڑے مزدور رہنما تھے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ سیاست میں بھی بہت متحرک تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی میں اُن کا ایک مقام تھا۔عثمان غنی کو 17ستمبر 1995کی ایک منحوس صبح اُن کی رہائش گاہ کے قریب کالا پُل پر نا معلوم افراد نے اُس وقت شہید کردیا جب وہ اپنے دفتر واقع آئی آئی چندریگر روڈ کے لیے آرہے تھے۔عثمان غنی کی شہادت مزدور دشمنوں کی جانب سے بنکنگ کی ٹریڈ یونینز کے لیے ایک یہ پیغام بھی تھا کہ اب یہ تحریک ،اُس کا وجود اور اُس کے قائدین نا قابلِ برداشت ہوچکے ہیں اور اُنہیں قانونی ہو یا غیر قانونی کسی بھی طریقہ سے راستہ سے ہٹا دیا جائے گا۔ عثمان غنی کی شہادت کو 23سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور آج اُن کی برسی منائی جارہی ہے۔وہ کراچی شہر کے علاقہ چنیسر گوٹھ میں 1948 میں پیدا ہوئے۔ NJV ہائی اسکول سے میٹرک جبکہ گریجوایشن کراچی یونیورسٹی سے کیا۔ 1970 کی دہائی کے آغاز میں مسلم کمرشل بنک میں ملازمت اختیار کی اور کارکنان کے درمیان اُن کے حقوق کے لیے اُنہوں نے کام شروع کیا اور 1972 میں یونین کے انتخابات میں اُنہیں سی بی اے کا صدر منتخب کرلیا گیا، اس کامیابی کے بعد اپنی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کی وجہ سے انہوں نے کسی بھی الیکشن میں ناکامی کا منہ نہ دیکھا اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے ۔اپنی پوری زندگی میں مزدوروں کے حقوق کے لیے چلنے والی تمام تحریکوں میں اُنہوں نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا، متعدد مرتبہ گرفتار ہوئے اور طویل عرصہ تک جیل وقید بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔اُن کی آخری گرفتاری فروری 1991 میں نواز شریف کے دورِ حکومت میں اُس وقت عمل میں آئی کہ جب پاکستان کے 160 سے زائد قومی ملکیتی ادارۂ جات کی سی بی اے یونینز نے پرائیویٹائزیشن کے خلاف ایک اتحاد قائم کیا جس کا نام آل پاکستان اسٹیٹ انٹرپرائزز ورکرز ایکشن کمیٹی”APSEWAC” رکھا گیا (راقم الحروف کو اس کمیٹی کا سینئر وائس پریذیڈنٹ منتخب کیا گیاتھا) ۔اس ایکشن کمیٹی نے نجکاری کے عمل کے خلاف پورے ملک میں ایک دن کی مکمل ہڑتال کی کال دی جس میں بنکس کی ٹریڈ یونینز نے بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔یہ ایک انتہائی مؤثر اور منظم ہڑتال تھی ۔نواز شریف کی حکومت نے پرائیویٹائزیشن کے خلاف جدوجہد کو کچلنے کی غرض سے شہید عثمان غنی، مسلم کمرشل بنک سے ہی تعلق رکھنے والے دیگر دو ٹریڈ یونین رہنماؤں اور راقم الحروف (جو کہ اُس وقت حبیب بنک کی ملک گیر سی بی اے اور پاکستان بنک ایمپلائز فیڈریشن کا سیکرٹری جنرل تھا)کوگرفتار کرکے پابندِ سلاسل کردیا اور کئی ماہ بعد MCBکی نجکاری کے بعد ہی رہا کیا ۔
عثمان غنی ٹریڈ یونین تحریک کے ساتھ ساتھ میدانِ سیاست میں بھی سرگرم عمل تھے اور اُنہوں نے اپنے علاقہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا تھا۔وہ علاقہ میں ایک مقبول سیاسی رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے اور چنیسر گوٹھ کے عوام کے دکھ درد میں ہمیشہ شاملِ حال رہتے تھے ۔سابق وزیر اعظم پاکستان چیئر پرسن پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ شہید بینظیر بھٹو اُن کی جدوجہد اور قربانیوں کو انتہائی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اور جب پارٹی نے اپنا لیبر ونگ قائم کیا تو وہ اُن چند ٹریڈ یونین رہنماؤں میں ایک تھے کہ جن کو بی بی شہید نے اُس میں شامل کیااور اس طرح وہ ’’پیپلز لیبر بیورو ‘‘کے بانی ارکان میں سے ایک تھے۔شہید عثمان غنی نے جمہوریت کی بحالی کے لئے پیپلز پارٹی کی جانب سے آمریت ے خلاف چلائی جانے والی تمام تحریکوں، مظاہروں اور ہڑتالوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور متعدد مرتبہ جیل یاترا کی مگر کبھی بھی جدوجہد کا راستہ ترک نہ کیا۔عثمان غنی کو اُس وقت شہید کیا گیا کہ جب بنکنگ کی ٹریڈ یونینز کو اُن کی قیادت کی اشد ضرورت تھی۔اُن کی شہادت سے ان اداروں کی ٹریڈ یونینز میں ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہوا جب کہ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی ایک جانباز اور جیالے رہنما سے محروم ہوگئی۔کہا جاتا ہے کہ چراغ سے چراغ جلتا ہے اور اس کا عملی مشاہدہ عثمان غنی شہید کے گھرانے میں نظر آتا ہے۔ عثمان غنی نے اپنے خونِ شہادت سے جدوجہد کی جس شمع کو روشن کیا تھا اُسے آگے بڑھ کر اُن کے فرزند ارجمند سعید غنی نے تھام لیا۔سعید غنی ایک نوجوان اورتعلیم یافتہ رہنما کہ جنہوں نے میدانِ سیاست میں انتہائی مختصر عرصہ میں وہ کامیابیاں حاصل کیں جو کہ مثالی ہیں۔سعید غنی نے اپنے عظیم والد کی شہادت کے بعد خارزارِ سیاست میں قدم رکھا اور یونین کونسل 4کی چیئرمین شپ اور سٹی ایریا 90 کی صدارت سے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔ 2018 میں انہوں نے عام انتخابات میں PS-114 سے دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کی اور رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اُنہیں وزیر بلدیات مقرر کیا جبکہ پارٹی2017میں اُنہیں کراچی ڈویژن کا صدر بھی مقرر کرچکی ہے ۔ شہید عثمان غنی کی شمع اُن کے فرزند کے محفوظ ہاتھوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے ۔عثمان غنی اب ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن اُن کی یادیں ،اُن کی جدوجہد ،اُن کی قربانیاں، قید وبند اور مزدوروں کے حقوق کے لیے اُن کی جیل کی صعوبتیں، اُن کے خاندان،پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور ٹریڈ یونین کے اُن کے دیرینہ ساتھیوں کے اذہان میں آج بھی پوری طرح تازہ ہیں۔ تئیسویں برسی پر ہم شہید مزدور رہنما کو محنت کش عوام اور پی پی پی کے کارکنان کی جانب سے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ