بھٹہ خشت کی بندش سے مزدور بے روز گار ہوں گے

43

قموس گل
خٹک

70سال کے بعد ہمیں اب خیال آیا ہے کہ آنے والے دور میں ہمیں قحط سالی سے بچنے کے لیے ڈیم بنانا ضروری ہیں کیا اس اہم مسئلے کو قومی پانچ سالہ منصوبہ بندی کا حصہ نہیں بنانا چاہیے تھا کیا ہم بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کے پانی کو سمندر تک پہنچانے کو حکومتی کارنامہ نہیں کہتے ؟ کیا ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ صوبوں کے اندر چھوٹے ڈیم بنانا یا قومی سطح پر بڑے ڈیم بنانے میں کونسا فارمولہ زیادہ آسان اور فائدہ مند ہوگا۔ کیا صوبائی حکمرانوں کو چھوٹے ڈیم بنانے سے کسی نے روکا ہے ؟ ہم یہ بھی طے نہیں کرسکے کہ صنعتی اور معاشی ترقی کے لیے بجلی کے کارخانے موٹر وے بنانا ضروری ہیں یا نہیں ۔ہم آج تک یہ بھی نہ طے کرسکے کہ اس ملک میں عوام کے لیے بڑے بڑے شہروں میں آرام دہ اور سستی ٹرانسپورٹ کی فراہمی حکومتی ذمہ داری ہے یا ایسی سہولیت کی فراہمی ناقابل معافی جرم ہے؟ کیونکہ روایتی طورپر اس ملک میں تمام آسائشیں اور سہولیات صرف اپر کلاس شہریوں کا حق سمجھا جاتاہے ۔
ہم یہ بھی طے نہیں کرسکے کہ اس ملک میں مزدوروں کو نیم غلام بناکر ٹھیکیداری سسٹم کے ذریعے بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر پندرہ ہزار ماہوار روپے کام کروانے سے صنعتی ترقی کے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ اور کیا تقرری کا آرڈر دیے بغیر ایمپلائر اور کارکن کے قانونی تعلق کو پورا کرنے سے صنعتی ترقی کو نقصان ہوگا یا فائدہ ؟ ہم یہ بھی طے نہیں کرسکے کہ آئین کے تحت انجمن سازی کاغیر مشروط حق مزدوروں کو نہ دینے سے ہم دنیا میں بدنام ہوں گے یا نہیں ؟ اور یہ بھی طے نہ کرسکے کہ ہمارے انڈسٹری کے بحرانی کیفیت کے اصل اسباب کیا ہیں ؟ ہمارے حکمران یہ بھی طے نہ کرسکے کہ ٹریڈ یونین بنانا مزدوروں کا حق ہے یا صنعت کاروں کا؟ تقریباً 80%پرائیویٹ کارخانوں میں محکمہ لیبر کی مدد سے صنعت کاروں نے خود کاغذی ٹریڈ یونین بناکر ان میں سے ایک کو سی بی اے بھی بنا رکھا ہے جس کے بارے میں مزدور لاعلم رہتے ہیں ۔ہم یہ بھی قومی سطح پر طے نہیں کرسکے کہ ریاستی اداروں کے دائرہ کار اور اختیارات کی حدود کیا ہیں؟ تاکہ یہ ادارے ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت نہ کریں اور اس کے نتیجے میں ریاستی اداروں میں اختلافات پیدا نہ ہو جس کی وجہ سے سیاسی بحران پید اہوتے ہیں ۔
70سال بعد یہ خیال آیا کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے ماحولیاتی آلودگی کے لیے کچھ نہ کچھ کیا ہے ہمیں بھی اس ضمن میں کچھ کرنا پڑے گا پھر ہماری حکومت نے عجلت میں آکر بے ہنگم طریقے سے کسی منصوبہ بندی کے بغیر فیصلہ کیا کہ 20 ستمبر 2018 سے ملک میں بھٹہ خشت بند کرکے ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کریں گے اور نئے مجوزہ ڈیزائن کے مطابق بھٹہ خشت بنا کر کام شروع کرنے کی اجازت دیں گے ۔ ائر کنڈیشن دفاتر میں بیٹھے ہوئے جمہوریت کے دعویداروں نے بھٹہ خشت کے مالکان اور مائینز اونر ایسوسی ایشن اور کانکنی میں کام کرنے والے محنت کشوں کے رہنماوں سے اس اہم فیصلے کے اثرات پر مشاورت کرنا بھی ضروری نہ سمجھا ۔ اگر بھٹہ خشت کو پورے ملک میں بند کیا جاتا ہے تو اس سے بھٹہ خشت کے ایک کروڑ بیس لاکھ مزدور ، کانکنی کے ڈیڑھ کروڑ اور تعمیراتی سیکٹر سے دوکروڑ مزدور بے روزگار ہوں گے اور ملک کے موجودہ صورتحال میں ان کو متبادل روز گار ملنا ممکن نہیں ۔کیا ماحولیاتی وزارت کو ایک فیصلے سے کروڑوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کرنے کا اختیار حاصل ہے ؟
کیا ماحولیاتی آلودگی کو کم کرانے کے دیگر اسباب پر کنٹرول کرلیا گیا کہ آخر میں بھٹہ خشت کو بند کرکے کروڑوں مزدوروں کو بے روزگار کرنے کا غیر معروف فیصلہ کرنا پڑا۔ شہر کراچی اور حیدرآباد میں تو ہمارے آنکھوں کے سامنے بلدیاتی عملہ مین شاہراہوں پر کچرا ڈمپ کرتا ہے اور جمع کرنے کے بعد اس میں آگ لگاکر ماحولیاتی آلودگی پھیلائی جاتی ہے۔ بقر عید کی آلائشیں بعض جگہ ابتک بدبو پھیلا رہی ہیں۔ ایسی جگہوں پر چونا چھڑکنے کے دعوے عملاً پورا ہوتے نہیں دیکھے ۔گٹر کا گندہ پانی مین سڑکوں پر کھڑا ہے ۔ حیدرآباد شہر کو کھنڈرات میں اور غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل کیا گیا اور جب بلدیہ کی گاڑی شہر سے کچرا اٹھا کر ڈمپنگ کے مقام پر لے جاتی ہے تو پورے راستے پر کچرے کا چھڑکاؤ کرتی ہوئی جاتی ہے ۔کیا کراچی اور حیدرآباد میں 1955کی گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں پر کنٹرول کرلیا گیا۔ اگر بھٹہ خشت کے ڈیزائن میں تبدیلی سے ماحولیاتی آلودگی کم ہوتی ہے تو اس کو ملک بھر میں یکمشت بند کرنے کی بجائے ضلع وائز طریقہ کار کو اپنا کر کروڑوں مزدوروں کو بے روز گاری سے بچاکر بھی یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ مگر جمہوریت کے اور تبدیلی کے دعویدار ضرور سوچیں کہ تبدیلی مثبت اور عوام کے مفاد میں ہوتی ہے اور ریاست کے مفاد کو دیکھ کر کی جاتی ہے ۔ آمرانہ طرز عمل سے کیے جانے والے فیصلے نئے نئے بحران پیدا کرتے ہیں ۔ جس طرھ تنخواہ دار لوگوں پر انکم ٹیکس برھانے ، گیس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر حکومت نے غور کرتے ہوئے مجوزہ اضافے کو موخر کیا اسی طرح بھٹہ خشت کی بندش کے فیصلے کو موخر کرکے متعلقہ فریقین کے مشورے سے مرحلہ وار اس مقصد کو حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ امید ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں اس مسئلے پر غور کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.