سرمایہ داری مسلمانوں کی روح میں بھی پیوست ہو گئی ہے، شاہنواز فاروقی

28

پاکستان ورکرز ایجوکیشن ٹرسٹ کے زیر اہتمام نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی اور ملحقہ تنظیموں کے عہدیداروں کا تربیتی پروگرام 8 ستمبر کو ٹرسٹ کے دفتر میں منعقد ہوا۔ پروگرام سے شاہنواز فاروقی، پروفیسر شفیع ملک، رانا محمود علی خان، برجیس احمد، شیخ امتیاز علی نے خطاب کیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے برجیس احمد نے کیا۔ اس موقع پر ممتاز کالم نگار شاہنواز فاروقی نے کہا کہ ہم علامہ اقبال سے زبانی عقیدت رکھتے ہیں، علامہ اقبال سرمایہ داری کے شدید مخالف تھے، سرمایہ داری استحصال کی دوسری شکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس میں مزدوروں کو مراعات نہیں ملتی تھیں، جب آدھی دنیا میں کمیونزم غالب ہوگیا تو سرمایہ داروں نے بھی مزدوروں کو حقوق دینے شروع کردیے۔
علامہ اقبال نے کہا
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
اٹھو میرے دنیا کے غریبوں کو جگادو
شاہنواز فاروقی نے کہا کہ کارل مارکس اور لینن سرمایہ داری کی قوت کو پہچانے میں ناکام رہے۔ سرمایہ داری ایک بڑی بلا ہے، چین اور روس اب سرمایہ داری کے حامی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ داری انسان کے لالچ کو اپیل کرتا ہے۔ صارف جتنا زیادہ خرچ کرے گا پیداوار بڑھے گی۔ اب پوری دنیا صارف بن گئی ہے، اب ہمیں ہر چیز مغرب کی پسند ہے، ہم اپنے گھر میں کھانا جیسا بھی پکا ہے خوش ہو کر کھا لیتے ہیں جبکہ دوسرے کے گھر کا کھانا ہمیں پسند نہیں آتا لیکن میکڈونلڈ، KFC وغیرہ کا کھانا ہم بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ سرمایہ داری ہماری روح میں پیوست ہوگئی ہے۔ جادو کا توڑ ہوسکتا ہے لیکن دنیا نے سرمایہ داری کا توڑ تلاش نہیں کیا۔ انسان کو بدلے بغیر دنیا کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کہتا ہے کہ سرمایہ کماؤ اور دوسروں پر خرچ کرو، پیسہ سے محبت نہ کرو، مال کو فتنہ نہ بناؤ، غربت مجبوری نہیں اختیاری چیز ہے۔ نبیؐ نے غربت کو پسند کیا۔ شاہنواز فاروقی نے کہا کہ دل ایک ہے اس میں دین کو رکھ لو یا دنیا کو رکھ لو۔ سرمایہ داری میں سرمایہ ہی خدا ہے، خواہشات کم کریں، آج مسلمان کو روحانی غذا نہیں مل رہی، قلوب سیاہ ہوگئے ہیں، اللہ کے ذکر سے قلوب کو سکون ملتا ہے، انہوں نے کہا کہ اب میڈیا سیاست کو اہمیت دیتا ہے اسلام کو نہیں دیتا۔ علامہ اقبال، سید مودودیؒ اور جماعت اسلامی نے سرمایہ داری نظام کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔
*پاکستان ورکرز ایجوکیشن ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر شفیع ملک نے کہا کہ محنت کش کو ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے لیکن بدقسمتی سے آج محنت کش طبقہ ہی سب سے زیادہ بدحالی اور تنگی کا شکار ہے۔ حکمرانوں نے پر فریب نعروں کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔ 70 سال سے اس ملک میں محنت کشوں اور غریبوں کا استیصال ہورہا ہے۔ ملک میں کوئی تبدیلی اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک غریب محنت کشوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ نعروں کے ذریعے غریبوں کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر رانا محمود علی خان نے کہا کہ این ایل ایف ملک کی صف اول کی مزدور تحریک ہے۔ اس تحریک کو ہم نے اپنے خون سے آبیار کیا ہے۔ ہم این ایل ایف کو پورے ملک میں متحرک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کمیونزم کے خلاف ہم نے جدوجہد کی اس طرح سرمایہ داری نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ یونین ریفرنڈم میں اپنے نشان کے تحت حصہ لیں چاہے 200 ووٹ ملیں۔ اتحاد کی سیاست میں پڑ کر یونین کی شناخت کو ختم نہ کریں۔
نائب امیر جماعت اسلامی کراچی برجیس احمد نے کہا کہ اسلام کا عادلانہ نظام ہی ہمارے مسائل کا واحد حل ہے۔ محنت کشوں کو اپنی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ این ایل ایف مزدوروں میں اسلامی شعور کو بیدار کرے۔ نیلاٹ کے ڈائریکٹر جنرل شیخ امتیاز علی نے کہا کہ WE ٹرسٹ نے محنت کشوں کی تربیت کا جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ قابل تعریف ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.