اللہ نے جس کا ذکر بلند کیا ہو!

182

 

ڈاکٹر وسیم علی برکاتی

وہ بولے تو اس کے لہجہ کے سامنے شہد پھیکا پڑجائے۔ وہ دیکھے تو اللہ کی رحمت کی جھلک نظر آئے۔ جو اس سے ملے تو اسی کا ہو کر رہ جائے۔ اس کے رخ کے سامنے چاند بھی شرماتا ہوا نظر آئے۔ جس کے قلب کو دھونے کے لیے عرش سے فرشتے اترے۔ جس کو دوست عمرؓ و ابو بکرؓ جیسے ملے۔ جس کو جاں نثار عثمانؓ و علیؓجیسے ملے۔ جس کے صحابہؓ ستاروں کی مانند کہ جس صحابیؓ کی طرف بھی نظر اٹھ جائے بس وہی سے ہدایت و فلاح کی ایک نئی راہ کھل جائے۔ جو کفر و شرک کے لیے عظیم چٹان، جو اپنی امت کے لیے راتوں کو گڑ گڑا گڑ گڑا کر رونے والا۔ حیاء دار ایسا کہ فرشتے بھی اس سے شرمائیں۔ جو اندھیروں سے گزرے تو روشنی ہوجائے۔ جو روشنی میں ہو تو نور علیٰ نور کا سماں بن جائے۔ وہ جو زمیں پر عرش کی باتیں کرے۔ وہ جو زمیں پر رہے اور اس کی باتیں عرش پر کی جائیں۔ وہ جو وجہ کائنات، صاحب لولاک ہے۔ جس کے مسکرانے سے کائنات اور خالق کائنات مسکرا اٹھے اور اگر اس کے چہرہء انور پر بل پڑ جائیں تو کائنات اور خالق کائنات مضطرب ہوجائیں۔ وہ جو کسی راستے سے گزر جائے تو راستے معطر ہوجائیں۔ جس کے پسینے کی خوشبو مشک و عنبر کی خوشبو کو شرما دے۔ جو مسکرائے تو دندان مبارک ستاروں کی طرح چمکتے دکھائی دیں۔ جس کا سایہ تک اللہ کو گوارہ نہ تھا کہ زمین پر پڑے۔ اسی لیے اللہ کے رسول ؐ کا سایہ نہ تھا۔ اللہ کے رسولؐ کی پشت پر دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ثبت تھی۔ بعض صحابہؓ کو آپؐ کا چہرہ کبھی چاند کی طرح چمکدار لگتا تھا تو کبھی سورج کی طرح روشن لگتا تھا۔ خوشی کے موقع پر آپؐ کا چہرہ نور سے بھر جاتا تھا۔ آپؐ مجمع میں جتنے لوگوں کے ساتھ بھی کھڑے ہوتے تھے آپ ؐ کا قد نکلتا ہوا لگتا تھا۔ جیسے ماں اپنے بچے کو پیار سے میرا چاند کہ کر بلاتی ہے ایسے ہی اللہ نے قرآن کریم میں کہیں اپنے رسول کو یاایھاالمزمل کہا، کہیں یاایھاالمدثر کہا اور کہیں اللہ نے کہا کہ اے میرے پیارے رسول ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا۔ (الم نشرح 4)۔ اور پھر جس کا ذکر اللہ رب العالمین بلند کردے۔ پھر اس کی محبت، اطاعت، چاہت، دلوں میں اس کا مقام کوئی بھی طاقت کیوں کر نکال سکتی ہے۔ جنگ احد میں ایک صحابیہؓ کو اطلاع دی جاتی ہے تمہارے والد شہید ہوگئے ہیں تو پوچھتی ہیں اللہ کے رسولؐ کیسے ہیں۔ پھر اطلاع ملتی ہے کہ تمہارا بھائی اور شوہر بھی شہید ہوگئے ہیں تو پوچھتی ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ کیسے ہیں۔ پھر جب رسول اللہ ؐ کو دیکھ لیتی ہیں تو بے ساختہ بول اٹھتی ہیں کہ جب اللہ کے رسول ؐ سلامت ہیں تو پھر کوئی مصیبت مصیبت نہیں ہے۔ جس رسول ؐ سے لوگ آج بھی اسی طرح محبت کرنے والے ہوں جیسے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے صحابہ کرام کرتے تھے۔ تو پھر اللہ کے اس نور کو پھونکوں سے کوئی ادنیٰ انسان یا کوئی بھی مخلوق کس طرح بجھا سکتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ فرماتا ہے کہ: ’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی ؐ پر درود بھیجتے ہیں تو اے ایمان والو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو‘‘۔ (الاحزاب: آیت 56)۔ یہ شان ہے، سچے نبی ؐ کی۔
وہ کہ اگر کوئی غلام اس کا ہوجائے تو اس کے قدموں کی آواز جنت تک سنائی دے۔ وہ کہ غلاموں کو امامت عطا کرنے والا۔ سردار اور غلام کو ایک صف میں کھڑا کرنے والا۔ جس کا کردار دشمنوں میں بھی صادق وامین۔ جو اپنوں کے لیے ہی نہیں پوری کائنات کے لیے رحمت اللعالمین۔ جس نے ہدایت دی کہ دوستی کوجنون نہ بناؤ اور دشمنی ایذا رسانی نہ بنے۔
سردار دو عالمؐ، امام الانبیاء۔ حسب و نسب اعلیٰ کہ پیدائش مکہ کے سردار گھرانے میں ہوئی۔ اور شجر�ۂ نسب اللہ کے پیارے نبی، خلیل اللہ یعنی سیدنا ابراہیم ؑ سے جاکر ملتا ہے۔ اخلاق کی یہ انتہا کہ اللہ ربّ العزت خود قرآن میں آپ کے اعلیٰ اخلاق کی گواہی دے رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے ’’بے شک اے نبی ؐ آپ اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں‘‘۔ اخلاق و کردار کا یہ عالم ہے کہ ایسا معاشرہ کہ جہاں جھوٹ، بے ایمانی، قتل و غار دت گری کو بڑائی اور فخر سمجھا جاتا تھا۔ آپؐ نے اس معاشرے میں ایمانداری اور سچائی کی راہ اپنائی۔ آپ جب سیدہ خدیجہؓ کا مال تجارت لے جاتے تو انتہائی ایمانداری کے ساتھ معاملات کرتے تھے۔ جس پر سیدہ خدیجہؓ کے غلام میسرہ نے گواہی دی کہ آ پؐ کے اخلاق نہایت بلند ہیں اور آپ تجارت انتہائی ایمانداری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ وہ کہ جس کی زندگی سراسر بندگی تھی۔ جس کی زندگی کا ہر پل اور ہر قدم پر از حکمت تھا۔ قربان جائے اللہ کے رسولؐ کی ہر ادا پر کہ جو زندگی کو اصل زندگی کی طرح گزارنے کے اصول اور رنگ ڈھنگ سکھلاتی ہے۔ یہ ایسا رسول ہے، یہ ایسا اللہ کا نبی ہے کہ جو آنکھ کھلنے سے لے کر آنکھ بند ہونے تک کے تمام طریقے بتاتا ہے۔ کوئی پہلو زندگی کا ایسا نہیں ہے کہ جو اللہ کے رسول ؐ نے اپنی ہدایات کے بغیر چھوڑ دیا ہو۔ چودہ سو ساڑھے چودہ سو سال پہلے بتایا جانے والا زندگی کا ہر قاعدہ ہر اصول اللہ کے رسول ؐ کے بتائے ہوئے اصولوں اور طریقوں کے مطابق آج بھی اٹل ہے۔
آج بھی سائنس کے اس دور میں رسول اللہ ؐ کے بتائے ہوئے طریقے اپنی اصل کو ثابت کررہے ہیں۔ میں صبح سوکر اٹھوں تو کیا کروں، رفع حاجت کروں تو بیت الخلا میں کیسے داخل ہوں۔ نہانے کا ارادہ ہو تو غسل کے کا کیا طریقہ ہے۔ ماں باپ کا ہماری زندگی میں کیا مقام ہے۔ بہن بھائی کے رشتہ کی کیا اہمیت و عظمت ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ میل جول کا کیا طریقہ ہونا چاہیے۔ پڑوسیوں کے ہمارے اوپر کیا حقوق ہیں۔ اگر کوئی وال�ئ ریاست ہے تو اللہ کے رسولؐکی حیات طیبہ سے رہنمائی لے، اگر کوئی قانون دان ہے تو اللہ کے رسول ؐ کی حیات طیبہ سے رہنمائی لے، اگر کوئی گھر کا سربراہ ہے تو اللہ کے رسولؐ کی حیات طیبہ سے رہنمائی لے، اگر کوئی استاد ہے تو اللہ کے رسولؐکی حیات طیبہ سے رہنمائی لے، اگر کوئی دوست ہے تو اللہ کے رسولؐ کی حیات طیبہ سے رہنمائی لے، اگر کوئی طبیب ہے تو اللہ کے رسولؐکی حیات طیبہ سے رہنمائی لے، طب نبوی ؐ باقاعدہ ایک طریقہ علاج و رہنمائی ہے۔ غرض انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی موت اور قبر تک اللہ کے رسول ؐ کی رہنمائی و ہدایات موجود ہیں۔ اللہ کے رسول ؐ کی ذات و صفات اور پوری حیات طیبہ وہ آسمان نور کی روشنی ہے جس کے ذریعے ہم اللہ اور اس کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوار سکتے ہیں۔ اور جو اللہ رسول ؐ کی مخالفت کرے تو اللہ نے واضح کردیا ہے کہ ان شانئک ھوالابتر (بے شک آپ ؐ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے)۔
)سورہ الکوثر: آیت (3 اب کسی نبی کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن اور اذان اللہ کے رسولؐ کی وہ عظیم رہنمائی ہے جو ہر سانس ہمارے ساتھ ہے۔اب کوئی ہوسکتا ہے تو نبی ؐ کا غلام تو ہوسکتا ہے لیکن کسی نبی کا پیدا ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ کیوں کہ اللہ کے رسول سیدنا محمد مصطفی ؐ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ