کیا جوڈیش لاء لگ گیا ہے؟

183

ایسا لگ رہا ہے کہ جو الزامات انتخابات سے قبل لگائے جارہے تھے اور ایک غلط اصطلاح استعمال کی جاری تھی یعنی جوڈیشل مارشل لا۔ بات وہاں تک پہنچ گئی ہے۔ غلط اصطلاح اس طرح کہ مارشل لاء تو فوجی ہوتا ہے۔ جوڈیشل ہوتا ہی نہیں بلکہ ہر طرح ایکسٹرا جوڈیشل ہوتا ہے کیونکہ وہ سب سے پہلے عدالتیں اور آئین معطل کرتا ہے لیکن یہ جو عدالتی لا یا جوڈیشل لاء ہے اسے غیر قانونی یا غیر آئینی تو نہیں کیا جاسکتا لیکن ملک پر حکمرانی آئین کے مطابق ہونی چاہیے اور آئین کسی فرد یا ادارے کو بھی اپنے اوپر بالادستی نہیں دیتا اب تو پارلیمنٹ بھی آئین کے مطابق اور اس کے دائرے میں قانون سازی کرسکتی ہے۔ لیکن ایک ڈیم نے سب کچھ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اگر کسی نے ڈیم کے بارے میں منہ سے ایل لفظ نکالا تو وہ صبح جیل میں ہوگا اب تک تو بیانات کی توپیں چل رہی تھیں لیکن اب ایک قسم کا فیصلہ آگیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار نے دو حیرت انگیز باتیں کی ہیں۔ ایک تو انہوں نے کہاکہ غداری کا مقدمہ چلے گا۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے آرٹیکل 6 کا مطالعہ شروع کردیا ہے۔ یہ مطالعہ ااب کیوں شروع کیا اس کا سوال کرنے کی ہمت کون کرے۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے تین مرتبہ آئین معطل کرنے، چیف جسٹس کی بے عزتی کرنے کے باوجود ان کے خلاف آرٹیکل 6 کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ چلیں اب جب کہ چیف جسٹس نے آرٹیکل 6 کا مطالعہ شروع کیا ہے تو جنرل پرویز مشرف کے خلاف زیر سماعت مقدمے میں ان کی گرفت آسان ہوجائے گی اور یہ بھی طے ہوجائے گا کہ ڈیم کی مخالفت پر آرٹیکل کے تحت غداری کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔ سیاسیات کے طالب علم تو یہی کہتے ہیں کہ اگر کسی قومی مسئلے پر اختلاف ہواور حکومت کوئی کام کرنے جارہی ہو اور اس کی مخالفت آئینی حدود میں کی جارہی ہو تو یہ مخالفت کرنے والوں کا آئینی حق ہے۔ آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اپنی رائے کا قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہار کیا جائے بلکہ اپنے رائے کے حق میں جلسے، مظاہرے اور رائے عامہ ہموار کرنے کا حق بھی پاکستانی شہریوں کو حاصل ہے۔ چلیں یہ تو آئینی بحث ہے اس پر ضرور بار ایسوسی ایشنوں اور ماہرین قانون کو قوم کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ ڈیم کی بھی ملک کسی ضرورت ہوسکتا ہے پاکستان میں پانی کا مسئلہ ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مستقبل میں خشک سالی کا بھی خطرہ ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف ڈیم بنانا ہے۔ دوسری جانب یہ رائے ہے کہ پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کے لیے دوسرے ذرائع استعمال کیے جائیں۔ لیکن ہفتے کے روز اس معاملے میں اچانک گرمی پیدا ہوگئی جب چیف جسٹس نے کہاکہ ڈیم کے مخالفین پر غداری کا مقدمہ چلے گا اور سندھ کے وزیر سید ناصر حسین شاہ نے جواباً یا اتفاقاً یہ کہہ دیا کہ کالاباغ ڈیم کی بات کرنے والے پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس نے کہاتھا کہ دیامر، بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے بعد کالاباغ ڈیم بھی بن سکتا ہے۔ اگرچہ چیف جسٹس نے سب کا اتفاق ہوا تو ڈیم بنانے کی بات کی ہے لیکن چونکہ یہ عدالتی فیصلہ نہیں اس لیے اس پر رائے زنی کی جاسکتی ہے۔ البتہ ناصر حسین شاہ تو اس معاملے میں ٹھونک کر میدان میں آگئے۔ اب کئی دن تک یہ بحث چلے گی۔ اس حوالے سے پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کالاباغ ڈیم کے حوالے سے جنرل ضیا الحق نے ڈیم بنانے کی حمایت کی اور ڈیم بنانے کے لیے تیاری کا ذکر کیا تو جی ایم سید سمیت بہت سے لوگوں نے مخالفت کی بلکہ جلسے جلوس، ڈیم کے خلاف زبردست مہم چلائی لیکن ان کے خلاف غداری کا مقدمہ نہیں چلا۔ہاں انہیں گلدستے ضرور بھیجے۔ ڈیم کے خلاف جنوبی پنجاب میں بھی تحریک چلائی گئی لیکن ان کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ ایسا کیوں نہیں ہوسگا۔ کیا جنرل ضیا، جنرل پرویز اور میاں نواز شریف اپنے اعلانات میں سنجیدہ نہیں تھے؟ کیا جو لوگ ڈیم کے مخالف تھے وہ واقعی غدار تھے۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی اسے کبھی غدار قرار نہیں دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو اسی مخالفت کے ساتھ دو مرتبہ وزیراعظم رہیں تو پھر مسئلہ کالاباغ ڈیم کے ساتھ نہیں۔ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کے ساتھ ہوا۔ یا اس کا اعلان کرنے والی شخصیت کی وجہ سے ہوا ڈیم تو بننا چاہیے لیکن اگر کوئی مخالفت کرتا ہے تو ایک خاص آئینی دائرے میں اختلاف کرسکتا ہے اس ملک میں شریعت کی مخالفت کی گئی، دین کا مذاق اڑایاا گیا، شرعی حدود کو غیر انسانی سزائیں کہا گیا، سود کے بارے میں بار بار کہاجاتا ہے کہ اس کے بغیر گزارا نہیں بلکہ عدالت میں سود کے حق میں حکومت چلی گئی اور عدلیہ کی جانب سے وہی سوال پوچھا جاتا ہے کہ انٹرسٹ اور سود میں کیا فرق ہے۔ اسی قسم کا سوال قریش بھی کرتے تھے۔ جب اﷲ اور رسولؐ کے واضح احکامات کے خلاف رائے دی جاتی ہے تو غداری کا مقدمہ چلتا ہے نہ آئین کی کوئی شق حرکت میں آتی ہے۔ 1973 کے بعد سے آنے والے تمام حکمران آرٹیکل 6 کی زد میں آتے ہیں کیونکہ آئین کہتاہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا جب کہ یہ حکمران نہ صرف قرآن و سنت کے منافی قانون بناتے رہے بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے جن قوانین کی نشاندہی کی ہوئی ہے ان میں سے کسی کو منسوخ نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ آئین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں کیا وہ غداری کے مرتکب نہیں۔ اگر ان کے خلاف آج تک آرٹیکل 6 بروئے کار نہیں لایا گیا تو اب کیوں۔ اس حوالے سے پہلی مرتبہ ایسا ہورہاہے کہ شدید ترین یا انتہائی حد تک جانے کی بات کرکے ڈیم بنانے کا اعلان کرنے والے ہی اسے متنازع بنارہے ہیں۔ ارے مخالفین کو بولنے دیں آپ اپنا کام کیے جائیں۔ کوئی چندہ دینے سے کسی کو روک تھوڑی رہا ہے نہ کسی نے ڈیم کے مقام پر دھرنا دیا ہے یا پھر یہ اعلان کردیا جائے کہ آئین معطل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ