بچوں کے اغوا کے واقعات سے شہریوں میں خوف وہراس

159

کراچی (رپورٹ /محمد علی فاروق) کراچی میں بچوں کے اغوا اور پراسرار گمشدگی کے واقعات میں اضافے نے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے۔پولیس حکام بچوں کی بازیابی کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنے میں ناکام ہوگئے ۔واقعات میں منظم گروہ اور غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے شبہات ظاہر کیے جارہے ہیں ۔بچوں کی گمشدگی کے حوالے سے عدالت عالیہ سندھ نے بھی پولیس کی کارکردگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے ۔23 میں سے صرف ایک بچہ بازیاب کرایاجاسکا،عدلیہ نے پولیس کو تمام جدید ٹیکنالوجی اور آلات استعمال کرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں بچوں کی گمشدگی کا معاملہ سنگین صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے لیکن پولیس لاپتا بچوں کی گمشدگی کے مقدمات درج کرنے سے انکارکررہی ہے ۔تواتر کے ساتھ ہونے والے واقعات نے کراچی کے شہریوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے اور وہ اپنے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔گمشدہ بچوں کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’’روشنی‘‘ کے مطابق جنوری 2017 ء سے لے کر رواں سال ستمبر تک ان کی ہیلپ لائن کو 200 بچوں کی گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 177 بازیاب ہوگئے ہیں جبکہ 23 ابھی تک لاپتا ہیں، جن کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست زیر سماعت ہے۔عدالت نے درخواستوں کی سماعت کے دوران پولیس کی کارکردگی پر اظہار برہمی کیا اور آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کیا ہے ۔عدالت میں سرکاری وکیل کی جانب سے بتایا کہ گمشدگی کی 22 ایف آئی آر درج کر لی گئی ہیں اور ایک بچی نورین کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ عدالت نے ڈی آئی جی کرائم برانچ پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 23 میں سے صرف ایک بچے کو بازیاب کرایا گیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات انتہائی سست ہیں جبکہ لاپتا بچوں کی عدم بازیابی پر لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔عدالت نے بچوں کی بازیابی کے لیے پولیس کو تمام جدید ٹیکنالوجی اور آلات استعمال کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نومولود بچے سے لے کر 4 سال کے بچوں کی گمشدگی میں وہ گروپ ملوث ہو رہے ہیں جو بچوں سے گداگری کراتے ہیں یا پھر بے اولاد جوڑوں کو فروخت کردیتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ