تنخواہیں بند‘ایگریکلچرل ریسرچ کے زرعی ماہرین کا احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان

92

ٹنڈوجام (نامہ نگار ) سندھ ایگریکلچرل ریسرچ کے 238 زرعی ماہرین کی تنخواہیں بند ہونے پر زرعی ماہرین نے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق سندھ ایگریکلچرل ریسرچ کے زرعی ماہرین کی تنظیم سندھ ایگریکلچرل ریسرچ سائنٹسٹ ایسوسی ایشن کا جنرل باڈی اجلاس ٹنڈوجام کے آئی پی ایم ہال میں منعقد ہوا، اجلاس میں سندھ بھر کے مختلف اسٹیشنوں کے زرعی ماہرین نے شرکت کی، جنرل باڈی اجلاس میں حکومت سندھ کے زرعی سائنسدانوں کے ساتھ ظلم کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اجلاس کے بعد سندھ ایگریکلچرل ریسرچ سائنٹسٹ ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر لیاقت علی بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق صوبائی حکومت نے سندھ بھر میں 38 نئے انسٹیٹیوٹ اور 4 نئے سینٹر بنانے کا اعلان کیا تھا اس کے ساتھ ساتھ پروموشن پالیسی بھی دی گئی تھی جبکہ سندھ کے علاوہ پنجاب، خیبر پختونخوااور بلوچستان کے زرعی ماہرین کو پالیسی کے تحت پروموشن دی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2017ء میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سمری منظورکی تھی اور محکمہ زراعتنے نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا اور فنانس ڈپارٹمنٹ نے تسلیم کیا تھا اور ان پوسٹ کو قانون کے تحتمنظور بھی کرلیا تھاجس کے بعد سندھ کے 238 زرعی سائنسدانوں کو ترقی دینا تھی اور نئی پوسٹ پیداکرنا تھی جس پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا اور زرعی ماہرین کی پروموشن درکنار ان کی تنخواہیں بھی بند کر دی گئی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ نئے ادارے بنے گے تو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ایگریکلچرل ریسرچ کے زرعی ماہرین نے سندھ کی زراعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے آبادگاروں کو نئی اجناس فراہم کی ہیں انہوں نے کہا ہم کل مورخہ17 ستمبر بروز پیر کو صوبائی وزیر زراعت سے ملاقات کریں گے اگر مسئلہ حل نہیں ہوا تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی اور وہ مسئلہ کے حل تک جاری رہے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.