ناقابل عمل فیصلہ

174

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کے لیے کام شروع کردیا گیا ہے اور اسے دو سے تین سال میں ریسرچ یونیورسٹی میں تبدیل کردیا جائے گا۔ علاوہ ازیں چاروں گورنر ہاؤسز کو میوزیم میں تبدیل کیا جارہا ہے جن پر ٹکٹ لگا دیا جائے گا۔ یہ کام 120دن میں مکمل ہو جائے گا۔ عمران خان کی حکومت کا یہ فیصلہ بھی شدید تنقید کی زد میں ہے اور یہ تنقید مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ مضبوط دلیل کے ساتھ ہے۔ پہلی بات تو یہ کہی جارہی ہے کہ کیا وزیر اعظم ہاؤس عمران خان کی ذاتی ملکیت ہے کہ وہ اس کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے ایسے ہی آزاد ہیں جیسے بنی گالا کی اپنی رہایش گاہ کے بارے میں آزاد ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس کسی فرد کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہاں ملک کا وزیر اعظم اس وقت تک قیام کرسکتا ہے جب تک وہ اپنے منصب پر برقرار ہے۔ فرض کیا کہ آئندہ 5 سال بعد کوئی اور اس ملک کا وزیر اعظم ہوا تو کیا وہ بنی گالا میں ٹھیرے گا یا اس اقدام کو منسوخ کردے گا۔ وزیر اعظم ہاؤس کے بے تحاشہ اور بے جا اخراجات ایک الگ موضوع ہیں۔ اور جب تک عمران خان وہاں رہیں یا کہیں اور، وہ اس کے اخراجات میں حسب منشا کٹوتی کرسکتے ہیں لیکن اس عمارت کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔ وزیر اعظم ہاؤس ریاست کی ملکیت ہے اسے کوئی اور رخ نہیں دیا جاسکتا۔ عمران خان وہاں نہیں رہنا چاہتے تو نہ رہیں، اسے خالی چھوڑ دیں لیکن اسے یونیورسٹی بنانا کسی بھی طرح قابل عمل نہیں ۔ یہ عمارت ریڈ زون میں ہے یہاں کوشش ہوتی ہے کہ پرندہ بھی پر نہ مار سکے۔ سخت حفاظتی اقدامات ہوتے ہیں، قدم قدم پر جانچ پڑتال۔ ایسے میں طالبان علم اور طالبات آسانی سے اس مجوزہ یونیورسٹی تک کیسے پہنچ جائیں گے۔ کیوں نہ ان کی رہایش کا انتظام بھی وہیں کردیا جائے، بہت جگہ ہے۔ مگر 5سال بعد کیا ہوگا؟ یہ بھی طے کرلیا جائے کہ جو غیر ملکی اہم شخصیات اسلام آباد آئیں گی انہیں کہاں ٹھیرایا جائے گا، ان کے پروٹوکول کے لیے گاڑیوں کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔ کیا غیر ملکی مہمانوں کو، جن میں سربراہان مملکت و حکومت ہوسکتے ہیں، اس گھر میں ٹھیرایا جائے گا جہاں عمران خان رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بصورت دیگرپنج ستارہ ہوٹلوں میں ٹھیرایا تو اخراجات زیادہ ہوں گے اور رابطوں میں مشکل بھی ہوگی۔ سندھ کا گورنر ہاؤس بھی ایک اہم تاریخی عمارت ہے جو اطلاعات کے مطابق نواب بہاولپور نے قائد اعظم کو عطیے میں دی تھی۔ اس گھر میں قائد اعظم نے قیام کیا اور ان کا ایک کمرہ بھی محفوظ ہے۔ تو کیا اس پر بھی ٹکٹ لگے گا ؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.