ڈیم کی مخالفت پر غداری کا مقدمہ چلے گا، چیف جسٹس

137

لاہور(نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ قوم میں اتفاق ہوا تو دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیم کے بعد کالا باغ ڈیم بھی بن سکتا ہے، کالا باغ ڈیم پاکستان کی بقا کا ضامن ہے ، آج کل میں نے آرٹیکل6کا مطالعہ شروع کردیا ہے جس نے ڈیم بنانے سے روکنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف غداری کا مقدمہ چلے گا، پانی اب سونے سے بھی زیادہ مہنگا ہے، پانی کی ڈکیتی کسی صورت قبول نہیں ، ایک بات واضح کردینا چاہتا ہوں ماسوائے قوم کی خدمت کے میرا اور کوئی مقصد نہیں، ہماری کاوشیں تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہیں، بچے بوڑھے ،نوجوان اور خواتین فنڈز کے لیے پیسے جمع کروا رہے ہیں، ڈیم بنانے میں ناکام ہوئے تو خشک سالی کے نتائج پوری قوم کو بھگتنا پڑیں گے ۔لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس
ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں پانی کی قلت کے مسائل سامنے آئے، پتا چلا کوئٹہ میں پانی کا مسئلہ اتنا سنگین ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو ہجرت کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ جب میں نے پتا کرایا تو معلوم ہوا کہ پانی کا مسئلہ تو پورے ملک کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں پانی کی شدید قلت ہو گی اس لیے پانی کی قلت کا واحد حل ڈیم کی تعمیر ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم ہی پاکستان کی بقا کا ضامن ہے، اللہ کے گھر میں کھڑا ہو کر کہہ رہا ہوں کہ ہم نے کالاباغ ڈیم کو چھوڑا نہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر قوم متفق ہوئی تو دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے بعد کالا باغ ڈیم بھی بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ سب محافظ ہیں، آپ نے پہرادینا ہے تاکہ ڈیم پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔قبل ازیں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے منرل واٹر کمپنیوں کی جانب سے زیر زمین پانی کے استعمال کے معاملے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے زیر زمین پانی نکال کر منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں وفاقی حکومت کے وکیل اور ایم ڈی واسا عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمپنیاں حکومت کو 25 پیسے فی لیٹر ادا کرکے 50 روپے فی لیٹر فروخت کررہی ہیں جبکہ ایم ڈی واسا نے بتایا کہ 2018 ء سے قبل پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں زمین سے مفت پانی نکال رہی ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پانی بیچنے والی کمپنیاں حکومت کے ساتھ پانی نکالنے کا ریٹ طے کر لیں۔جسٹس ثاقب نثار نے مزیدکہا کہ دیکھنا ہو گا کہ منرل واٹر میں منرلز ہیں بھی یا نہیں، میں گھر میں خود نلکے کا پانی اُبال کر پیتا ہوں کیونکہ میری قوم یہ پانی پی رہی ہے، غریب آدمی آج بھی چھپڑ کا پانی پینے پر مجبور ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پانی اب سونے سے بھی زیادہ مہنگا ہے اس کی ڈکیتی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایک بات بتا دوں ماسوائے قوم کی خدمت میرا کوئی مقصد نہیں، میں نے آرٹیکل 6 کامطالعہ شروع کر دیا ہے، جس نے ڈیم روکنے کی کوشش کی اس کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کروں گا۔عدالت نے منرل واٹر کی تمام بڑی کمپنیوں کے سی ای او کو آج طلب کر لیا۔
چیف جسٹس

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.