بھارت میں ہندو ازم خطرناک حد تک بڑھ گیا ، امریکی کانگریس

68

واشنگٹن( آن لائن ) امریکی کانگریس نے خبردار کیا ہے ہے بھارت میں ہندوازم کے بڑھتے ہوئے رحجانات کے باعث سیکولرازم کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلتے پرتشدد واقعات سے بھارت میں سیکولرازم کی جڑیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ (کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مذہبی شدت پسندی اور پرتشدد واقعات سمیت ریاستی سطح پر قانون سازی، گائے تحفظ بل، غیرسرکاری تنظیموں کو حاصل آزادی جیسے عناصر بھارتی ریاست کے بنیادی
نظریے کو مسخ کررہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندوازم باقاعدہ سیاسی طاقت کے روپ میں ابھر رہا ہے ،مذہبی آزادی کا تصور خام خیال بن چکا ہے۔ اس ضمن میں بتایا گیا کہ ساؤتھ ایشین اسپیشلسٹ ایلن کورانٹ نے رپورٹ مرتب کی جس کا مقصد امریکی کانگریس کو حالات سے متعلق آگاہی دینا تھا۔ تاہم متعدد امریکی قانون سازوں نے سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو پر زور دیا تھا کہ وہ 6 ستمبر کو بھارت سے ملاقات میں مذہبی آزادی کے مسئلے پر بات چیت کریں۔ بھارت میں سوشل میڈیا پر احساسات کو بھڑکانے کے لیے بھرپور کام ہو رہا ہے۔ 2014ء میں نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کی کامیابی کے بعد مذہبی آزاد ی کے مسائل نے جنم لینا شروع کیا۔ بی جے پی نے اترپردیش سمیت متعدد ریاستوں میں کامیابی حاصل کی جہاں 20کروڑ میں سے ایک تہائی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔سی آر ایس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ بھارت میں مذہبی انتہا پسندی کے باعث امریکا اور بھارت کے مابین تعلقات میں تفریق پیدا ہوئی تھی۔
امریکی کانگریس

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.