نیب سے اضافی تنخواہ لینے والے افسران کی فہرست طلب

36

لاہور (آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈی جی نیب کوقانون کے مطابق الاؤنسز لینے والے افسروں کے نام اضافی تنخواہیں لینے والے افسران کی فہرست سے نکالنے کی ہدایت کر تے ہوئے حکم دیاکہ افسران کی نظر ثانی شدہ فہرست مرتب کرکے ایک ہفتے میں رپورٹ جمع
کرائی جائے۔ ہفتہ کو لاہور رجسٹری میں سرکاری کمپنیوں سے اضافی تنخواہوں کی وصولی سے متعلق ازخود کیس کی سماعت ہوئی۔راحیل صدیقی نے عدالت کو بتایاکہ انہوں نے اضافی تنخواہ وصول نہیں کی، صرف قانون کے مطابق الاؤنسز لیے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر راحیل احمد صدیقی اور جاوید احمد تو قانون کے مطابق الاونسز لے رہے ہیں، نیب قانون کے تحت الاؤنسز لینے والے افسروں کے ناموں سے عدالت کو آگاہ کرے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب افسران اپنا کام دفتر میں کر کے آیا کریں، یہاں کانا پھوسی نہ کریں، ڈی جی نیب شہزاد سلیم ایماندار افسر ہیں، انہیں پتہ ہے کام کیسے کرنا ہے۔نیب نے عدالت کوبتایا کہ اضافی تنخواہیں لینے والے افسروں سے وصولیوں کے لیے رضاکارانہ اکاؤنٹ کھول دیا گیا ہے۔
اضافی تنخواہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ