اسپتالوں کا مقصد زیادہ نفع کمانا نہیں ہونا چاہیئے،خدمت نہیں کرسکتے تو بند کردیں،چیف جسٹس

171

چیف جسٹس نے نجی ہسپتالوں کو علاج کے نرخوں پر نظر ثانی کا حکم د یتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہسپتالوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفع کمانا نہیں ہونا چاہئے، لوگوں کے کپڑے نہ اتاریں گدھ نہ بنیں۔

نجی ہسپتالوں میں مہنگے علاج سے متعلق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے نجی ہسپتالوں کو علاج کے نرخوں پر نظر ثانی کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتال علاج کی قیمتیں خود کم کردیں۔ ڈاکٹر لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو ہسپتال بند کردیں۔ مریضوں سے روزگار کا ایک لاکھ روپے وصول کرتے ہیں دل کے اسٹنٹ ڈالنے کے ایک لاکھ وصول کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالتی حکم کے باوجود اضافی پیسے کیوں وصول کئے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ پی ایم ڈی سی نے جو طے کیا اس سے زیادہ کوئی وصول نہیں کرے گا،ایک مریض کا تیس دن کا بل چالیس لاکھ روپے کیسے بنا دیا،اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں ورنہ عدالت فیصلہ کریگی غریبوںکو بھی اچھا علاج کروانے دیں۔عدالت نے ڈاکٹرز ہسپتال انتظامیہ کو اپنے چارجز پر نظر ثانی کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیانجی ہسپتال صرف امیروں کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ماتحت عدالتوں کو نجی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئےکہا کہ کو ئی عدالت نجی اسپتالوں کے معاملے میں دخل نہیں دے گی،نجی ہسپتالوں کا معاملہ سپریم کورٹ خود دیکھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ  ہسپتالوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفع کمانا نہیں ہونا چاہئے، لوگوں کے کپڑے نہ اتاریں گدھ نہ بنیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.