احتساب قانون میں تبدیلی اور عدالتی اصلاحات لا رہے ہیں ، فروغ نسیم

36

اسلام آباد (اے پی پی+صباح نیوز)وفاقی وزیرقانون وانصاف بیرسٹرڈاکٹرمحمد فروغ نسیم نے کہاہے کہ احتساب کے قانون میں جامع تبدیلیوں کی ضرورت ہے جبکہ ملک میں فوری انصاف کے لیے عدالتی نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی، زیرالتوا مقدمات کو جلد نمٹانے اورجوڈیشل نظام کومؤثربنانے کے لیے دیوانی قانون (سول لا) میں ترامیم کی جائیں گی۔ جمعہ کو ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دیوانی کیسوں کی نگرانی کے لیے 3 مراحل پرمشتمل طریقہ کارکوجلدازجلد متعارف کرایا جائے گا، پہلے مرحلے میں بنیادی اوراہم کیسوں کو سنا جائے گا، دوسرے مرحلے میں حکم امتناع اورتولیت سے متعلق امورکا جائزہ لیاجائے گا اورتیسرے وحتمی مرحلے میں شہادتیں ریکارڈ کی جائیں گی۔وفاقی وزیرنے کہاکہ شہادتوں کے
حصول کے لیے معروف اور اچھی ساکھ کے حامل وکلا پرمشتمل پینل تشکیل دیاجائے گا، اس ضمن میں ہمیں ملک بھرسے وکلا کی معاونت درکارہو گی۔انہوں نے کہاکہ دیوانی مقدمات کے اندراج سے لے کر دفاع تک پورا عمل 75دن میں مکمل کیا جائے گا، کسی معاملے پر مقدمے کے لیے 30 دن کاعرصہ ہوگا جبکہ گواہان اورثبوتوں کے لیے 15 سے لے کر 20 دن دیے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ عدالتوں کا وقت بچانے کے لیے کمیشن ضروری شہادتیں ریکارڈ کرائے گا، یہ شہادتیں 90 دن میں ریکارڈ ہوں گی، فیصلے کے بعد اس کا اطلاق کسی تاخیر کے بغیر فوری طورپرہوگا۔عدالت عظمیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر کوئی فیصلہ واپس ہوتاہے تو اس صورت میں 3 ماہ کے اندراس کا اعلان ہوگا ، فیصلے کے بعد کسی حکم نامے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ سول جج کے فیصلے کے بعد عدالت عالیہ اورعدالت عظمیٰ کی صورت میں 2اپیلٹ عدالتیں ہوں گی، اگر ہم ان تمام امورکومرکزی دھارے میں لائے تواس صورت میں ایک مقدمہ 12سے لے کر13 مہینوں میں مکمل ہوجائے گا۔ایک سوال پرانہوں نے امیدظاہرکی کہ سندھ حکومت بھی ان ترامیم کاجائزہ لے گی کیونکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ پہلے سے ہی اس پر اتفاق رائے ظاہرکرچکے ہیں اب یہ صوبائی اسمبلی پرمنحصر ہے کہ وہ اس معاملے کو کیسا دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انقلابی نوعیت کی تبدیلی ہوگی، قانونی چارہ جوئی کا عمل تقریباً 2 سال میں مکمل ہوگا اورمقدمات میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔ ایک اورسوال پرانہوں نے کہاکہ باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے مسودے کو مکمل کرلیا گیاہے جو 9 سال سے زیرالتوا تھا، یہ مسودہ اب وزارت داخلہ ، ایف آئی اے اورنیب کو بھیجا جائے گا، باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے مسودے پر اجلاس آئندہ ہفتے منعقد ہوگا، اس اجلاس کے بعد وزارت قانون وانصاف اسے پارلیمنٹ میں بھیجنے یا آرڈی ننس کے لیے ارسال کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔انہوں نے مزید کہاکہ نیب کومضبوط بنانے کے لیے احتساب کے قانون میں جامع تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران جب ان سے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس پر سوالات پوچھے گئے تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ پرویز مشروف پر بات نہ کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.