عدالت عظمیٰ ‘ معائنہ نہ کرانیوالے کمپنی مالکان کی ضمانت ضبط کرنیکا حکم

20

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ نے آئی نائن ماحولیاتی آلودگی کیس میں نجی کمپنیوں کی انسپکشن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے کمپنی مالکان کی ضمانت کی رقم 50 لاکھ روپے ضبط کرنے کا حکم دے دیتے ہوئے فیکٹریوں کے معائنے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جمعے کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اسلام آباد میں صنعتی اور ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ماحولیات فرزانہ
الطاف شاہ نے بتایا کہ ماحولیاتی آلودگی روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں‘ ہمیں معائنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مل مالکان کو عدالت کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ‘ یہ لوگ براہ راست لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں‘ ہم ان کی 50، 50 لاکھ روپے کی سیکورٹی ضبط کرلیں گے۔ ڈی جی ماحولیات نے کہا کہ مل مالکان نے ہمیں واچ ڈاگ سے ڈاگ بنا دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جنہوں نے سیکورٹی جمع نہیں کرائی ان سے8 فیصد مارک اپ لیں گے اور یہ سارا پیسہ ڈیم فنڈ میں جانا ہے۔ عدالت نے ڈائریکٹر ایچ آر سیل سپریم کورٹ اور ڈی جی ماحولیات کو اسلام آباد کے صنعتی یونٹس کا معائنہ کر کے5 دن میں رپورٹ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صنعتی زون کا معائنہ کر کے بتایا جائے کتنے صنعتی یونٹس فعال ہیں اور کون سے صنعتی یونٹس نے ابھی تک آلودگی روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت24 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ